چمکے ہوئے ہیں دیوار و در رونق ہے بازاروں میں
چمکے ہوئے ہیں دیوار و در رونق ہے بازاروں میں
کیسے کیسے لوگ آئے ہیں کیسی کیسی کاروں میں
میں تو اس کے سامنے بیٹھا اس کا چہرہ پڑھتا تھا
جانے وہ کیا ڈھونڈ رہا تھا انگریزی اخباروں میں
وہ بھی دن تھے جب ہر چھٹی تیرے ساتھ گزرتی تھی
آج مگر رکھا ہی کیا ہے ہفتوں اور اتواروں میں
جانے کس فرہاد کا تیشہ کس کے جگر کو چیر گیا
خون کی دھاریں دیکھ رہا ہوں پتھر کی دیواروں میں
جن لوگوں کے عقل و ہنر کی دھوم مچی تھی عالم میں
ان کو بھی دیکھا ہے رسوا شاہوں کے درباروں میں
پھول سے چہرے شاخ سی بانہیں جب گلیوں میں ملتی ہیں
کون بھلا پھر سیر کو جائے ہرے بھرے گلزاروں میں
تو میری معصوم نظر کو بو الہوسی کا دوش نہ دے
میں تو خود کو دیکھ رہا ہوں تیرے حسیں رخساروں میں
آؤ ان کو باہر لا کر تازہ ہوا میں بٹھلائیں
لوگ چھپے بیٹھے ہیں کب سے اپنی ذات کے غاروں میں
اب کے تو بیتابؔ مری میں کچھ کچھ آگ برستی تھی
جلتے صحرا آ نکلے تھے بھیگے ہوئے کہساروں میں