ان در و دیوار کی آنکھوں سے پٹی کھول کر
ان در و دیوار کی آنکھوں سے پٹی کھول کر ڈوبتے سورج کا منظر دیکھ کھڑکی کھول کر اشک آنکھوں میں اگر کچھ ہیں تو کر شب کا سفر راستے میں آسماں بیٹھا ہے جھولی کھول کر اور کچھ تازہ لکیریں شکل کے خاکے پہ ہیں دیکھ اپنے ہاتھ کا آئینہ مٹھی کھول کر پیکر مفہوم بن کر بھی کبھی پہلو میں آ لفظ ...