نہ جانے کس خیال سے رنجیدہ ہو گیا
نہ جانے کس خیال سے رنجیدہ ہو گیا میں چہرہ اس کا دیکھ کے سنجیدہ ہو گیا وہ دور تھا تو لگتا تھا آسان سا جواب آیا قریب میرے تو پیچیدہ ہو گیا اک لمحہ زندگی نے حسیں تر مجھے دیا زانو پہ رکھ کے سر کو وہ خوابیدہ ہو گیا
نہ جانے کس خیال سے رنجیدہ ہو گیا میں چہرہ اس کا دیکھ کے سنجیدہ ہو گیا وہ دور تھا تو لگتا تھا آسان سا جواب آیا قریب میرے تو پیچیدہ ہو گیا اک لمحہ زندگی نے حسیں تر مجھے دیا زانو پہ رکھ کے سر کو وہ خوابیدہ ہو گیا
وہی آندھی وہی بارش وہی طوفان سا ہے پہلے تو ڈوبے تھے اب بچنے کا امکان سا ہے کل یہاں بستیاں بھی ہوں گی مکاں بھی شاید آج لگتا جو علاقہ مجھے سنسان سا ہے جو بھی ہوتا ہے اسے روک نہیں سکتے ہم زندگی لگتی خدا کا مجھے فرمان سا ہے کھو گئے جانے کہاں ہنستے ہوئے چہرے آج اس زمانے میں ہر اک شخص ...
آپ بلائیں ہم نہ آئیں ایسی کوئی بات نہیں دنیا والوں سے ڈر جائیں ایسی کوئی بات نہیں تیرے سوا ہیں اس دنیا میں اپنے بھی غم خوار بہت سب کو دل کا راز سنائیں ایسی کوئی بات نہیں راہ وفا میں ہم نے یارو ساری عمر گزاری ہے چلتے چلتے ٹھوکر کھائیں ایسی کوئی بات نہیں سارے رشتے سارے بندھن ...
زمانے میں محبت کی اگر بارش نہیں ہوتی کسی انسان کو انسان کی خواہش نہیں ہوتی ہزاروں رنج و غم کیسے وہ اپنے دل میں رکھتے ہیں کہ جن کے دل میں تھوڑی سی بھی گنجائش نہیں ہوتی ہم اپنی جان دے کر دوستی کا حق نبھا دیتے زمانے کی اگر اس میں کوئی سازش نہیں ہوتی تمہارے پاؤں تو دو گام چل کر ...
زیست میں کوشش ناکام سے پہلے پہلے سوچ آغاز کو انجام سے پہلے پہلے ہر برے کام کا انجام برا ہوتا ہے ان کو سمجھا دو برے کام سے پہلے پہلے شکریہ آپ کے آنے کا عیادت کو مری درد کم ہو گیا آرام سے پہلے پہلے آج مے خانے میں جب خوف خدا یاد آیا ہاتھ تھرانے لگے جام سے پہلے پہلے عدل و انصاف کی ...
اپنے گزرے ہوئے لمحات ذرا یاد کرو روز ہوتی تھی ملاقات ذرا یاد کرو کیا سہانی تھی گھڑی کیسا سہانا موسم چاند تاروں کی حسیں رات ذرا یاد کرو تم اگر بھول گئے ہو تو کوئی بات نہیں اس انگوٹھی کی وہ سوغات ذرا یاد کرو چھت پہ آ جاتے تھے کپڑوں کا بہانا کر کے کیا محبت کے تھے جذبات ذرا یاد ...
اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹے بن بن کے حباب کاسۂ سر ٹوٹے گرداب فنا سے کوئی بچ کر نکلا شل ہو کے یہاں دست شناور ٹوٹے
آغاز ہے کچھ طرح نہ انجام ترا بندوں پہ ہمیشہ لطف ہے عام ترا مندر میں ہے ہر خدا ہے تو مسجد میں جپتے ہیں شیخ و برہمن نام ترا
دو نگاہوں سے چار کی ٹھہری شکر صد شکر پیار کی ٹھہری میں تو جانا تھا وصل اس سے ہوا کیا بلا پھر قرار کی ٹھہری ایک دو تین چار پانچ اور چھ رات دن پھر شمار کی ٹھہری اے مری چشم مثل ابر سیاہ تیری زار و نزار کی ٹھہری آنکھ پتھرائی آرسی کی طرح کس قدر انتظار کی ٹھہری اے علیؔ خوش ہو جل تو ...
خون دل منہ پہ آج بہتا ہے روبرو حال دل کا کہتا ہے اب تو بے رحم رحم کر اس پر کیا کیا باتیں تری وہ سہتا ہے اک دو گالی ہی دے کے خوش کرنا درد و غم میں سدا وہ رہتا ہے