قومی زبان

شاہ دولہ چوہا

میں تھا ماندہ اداس مقبرے کے پاس ایک سبز حجلے میں اپنے جمورے کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا مرجھائی ہوئی دھوپ کاہی دولا شاہی خانقاہ کی زرنگاہ سیڑھیوں سے اترتی دالان پار کرتی حجرے کی سنہری جالیوں سے چھن چھن گزرتی مرمریں فرش پر ٹوٹے ہوئے چتکبرے پروں کی طرح ہلکان پڑی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اے دل پہلے بھی ہم تنہا تھے

اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں ان زخموں سے ان داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے جو داغ کہ بدر منیر ہوئے اس طرح سے کب تک جینا ہے میں ہار گیا اس جینے سے کوئی ابر اٹھے کسی قلزم سے رس برسے میرے ویرانے پر کوئی جاگتا ہو کوئی کڑھتا ہو میرے دیر سے واپس آنے پہ کوئی سانس بھرے ...

مزید پڑھیے

مرتا لمحہ

اس لمحے کی ہمراہی محسوس کرو اس سے تمہارا بس اتنا ہی رشتہ ہے اس کی راہ کا اک بے مصرف پتھر ہو اس کا دل کونپل کی طرح ملایم ہے اس دنیا اور اس کے دکھوں کے بارے میں جب کوئی بات سنے گا کمھلا جائے گا خاموشی سے اس کے سائے سائے چلو اور اگر کوئی بات ہی اس سے کرنی ہے آنے والے اچھے دنوں کی بات ...

مزید پڑھیے

بندھنوں سے رہائی مت کرنا

بندھنوں سے رہائی مت کرنا یوں کبھی بھی جدائی مت کرنا لاکھ دنیا کہے برا مجھ کو آپ میری برائی مت کرنا جو دیا دل مری نشانی ہے چیز اپنی پرائی مت کرنا اس قدر دور کر مجھے خود سے جان یہ جگ ہنسائی مت کرنا مجھ سے یہ بوجھ اب نہیں اٹھتا دیکھو تم آشنائی مت کرنا

مزید پڑھیے

دکھنے میں ہیں سیدھی لڑکی

دکھنے میں ہیں سیدھی لڑکی لیکن ہے وہ ضدی لڑکی مجھ کو ہر دم تڑپاتی ہے اپنی ماں کی بگڑی لڑکی اس پر لکھتا غزلیں پیاری سب کچھ ہے وہ پگلی لڑکی ہم کو چھوڑا گھر کی خاطر یعنی ہے وہ اصلی لڑکی وعدہ تھا اک سنگ جینے کا مجبوری میں بدلی لڑکی

مزید پڑھیے

غموں کے یہ بادل برستے رہیں گے

غموں کے یہ بادل برستے رہیں گے محبت کی خاطر ترستے رہیں گے میرے اشک بن کے وفاؤں کے موتی یوں آنکھوں سے میری چھلکتے رہیں گے اگر جو مرے آپ ہو نہ سکیں تو یہاں سے وہاں ہم بھٹکتے رہیں گے بھلے ہی جلیں گے بھلے ہی مریں گے سنو آپ خاطر تڑپتے رہیں گے کمی سے تمہاری کریں خودکشی گر تو ہر روز ...

مزید پڑھیے

باکرہ

۔۔۔۔اور چادر پر شب باشی کا زندہ لہو تھا اس نے اٹھ کے انگڑائی لی آئینے میں چہرہ دیکھا سرشاری میں اطمینان کی ٹھنڈی سانس لی اس کی تھکی ہوئی آنکھوں میں دیوانی مغرور چمک تھی فتح کے نشے سے پلکیں بوجھل تھیں اس نے سوچا ہائیڈ پارک میں جو لڑکی اک جاسوسی ناول میں ڈوبی اسے ملی تھی وہ تو جیسے ...

مزید پڑھیے

(۱)

یہ احساس کہ اک ذی روح مری آواز کے شعلے سے جل سکتا ہے خاموشی کے ریشم سے کٹ سکتا ہے اتنا جاں پرور ہے کہ آنکھیں بند ہوئی جاتی ہیں خوشی سے بھیگی جاتی ہیں

مزید پڑھیے

الکبڑے

یہ سست ماہے ماں کے خالی پیٹ کے ویرانے میں کراہے ننگوں، بھوکوں، بھک منگوں نے اپنی سدا سہاگن لائن اور بڑھا دی وہ اعزاز دیا ایک جگہ مستقل بنا دی ان کی خمیدہ پشت اپنے کوہان سے مڑی کمان تھی جس کی بد صورت پرچھائیں خط فلک پر داغ کاڑھتی تھی نیلے رنگ افسردہ لگتے تھے ان کے باپ پرانے ...

مزید پڑھیے

کیمرا

ایک امنگ سے تنی ہوئی اک پراسرار گلی پتی پتی آگ لیے جاتی ہے۔۔۔ یہ سرکش خون فروش اپنے برش کی جنبش سے میلی صبح میں سرخ رنگ بھر دے گی۔۔۔ آج نمو کے نیلے زہر سے بھری ہوئی بیٹھی ہے۔۔۔ اوس میں تر کوئی بے گھر تتلی نیند پیڑ کی خواب شاخ پر پیلے دھانی اندیشوں کی دھنک پہن کے سوتی ہے۔۔۔۔۔۔ اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1181 سے 6203