قومی زبان

ہم کسی کی بھی کبھی آنکھ کے تارے نہ ہوئے

ہم کسی کی بھی کبھی آنکھ کے تارے نہ ہوئے جن کو چاہا تھا بہت وہ بھی ہمارے نہ ہوئے ڈوبتے ناؤ کو دیکھیں مری جن کو تھی یہ فکر ہائے افسوس وہ دریا کے کنارے نہ ہوئے جو نکو کار تھے دنیا سے وہ اٹھتے ہی گئے تھے جو بد کار وہ اللہ کو پیارے نہ ہوئے کون سی صبح وہ بن کر نہ لب بام آئی کون سی شام کو ...

مزید پڑھیے

شکوۂ گردش تقدیر سے کیا ہوتا ہے

شکوۂ گردش تقدیر سے کیا ہوتا ہے کارساز اہل محبت کا خدا ہوتا ہے شکوہ ہوتے ہیں محبت میں گلہ ہوتا ہے کوئی اپنوں سے بھی اس طرح خفا ہوتا ہے مسکرائے وہ مرے غم کی حکایت سن کر شاید اب ان کو بھی احساس جفا ہوتا ہے آ ہی جاتا ہے محبت میں اک ایسا لمحہ مدعا دل کا جب آنکھوں سے ادا ہوتا ہے اک ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں آنسو لبوں پر آہ دل میں درد ہے

آنکھ میں آنسو لبوں پر آہ دل میں درد ہے تیرے سودائی کی نظروں میں تو دنیا گرد ہے اک جھلک دیکھی تھی اس نے ان کی اوج چرخ پر رشک سے مہتاب کا چہرہ ابھی تک زرد ہے خوش نصیبان رہ الفت تو منزل پا گئے اپنے حصے میں جو آئی وہ سفر کی گرد ہے میری بربادی نے ان کو اور رسوا کر دیا اب تو دنیا کہہ رہی ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر آپ نے مایوس تمنا مجھ کو

دیکھ کر آپ نے مایوس تمنا مجھ کو پردہ ہائے مہ و انجم سے پکارا مجھ کو جب بھی لغزش ہوئی قدموں کو سر راہ طلب آپ کے غم نے دیا بڑھ کے سہارا مجھ کو بے خودی کر گئی کونین سے بیگانہ مجھے اب نہ ساحل کی نہ طوفاں کی تمنا مجھ کو میں نے دنیا کی ہر اک شے میں تجھے یوں دیکھا اپنا دیوانہ سمجھنے لگی ...

مزید پڑھیے

جو سہی نئیں حضور کرتے ہو

جو سہی نئیں حضور کرتے ہو آپ کتنا غرور کرتے ہو جان پہلے قریب آئے اب خود کو مجھ سے ہی دور کرتے ہو نام میرا لیا نہیں جاتا پیار یعنی ضرور کرتے ہو ساتھ جینے کا وعدہ تھا لیکن خواب کیوں چور چور کرتے ہو

مزید پڑھیے

بڑی ان میں نزاکت ہے تو ہے

بڑی ان میں نزاکت ہے تو ہے مگر ہم کو شکایت ہے تو ہے جو بھی چاہے سزا ہم کو وہ دیں ہمیں ان سے محبت ہے تو ہے بنا دیکھے صنم کو چین نئیں وہ آنکھوں کی ضرورت ہے تو ہے لڑیں گے ہم زمانے بھر سے یوں کوئی کہتا بغاوت ہے تو ہے

مزید پڑھیے

تیرا وہ کرم تیری جفا یاد ہے اب تک

تیرا وہ کرم تیری جفا یاد ہے اب تک سب کچھ مجھے اے جان حیا یاد ہے اب تک آیا تھا زباں پر مری کیوں حرف تمنا کیوں ہو گیا تھا کوئی خفا یاد ہے اب تک شانوں پہ مرے وصل کی شب خاص ادا سے رہتی تھی تری زلف رسا یاد ہے اب تک کہنے پہ مرے آؤ مرے پاس تو بیٹھو وہ ان کے بگڑنے کی ادا یاد ہے اب تک آ جاؤ ...

مزید پڑھیے

یہ کوئی بات ہوئی مل کے جدا ہو جانا

یہ کوئی بات ہوئی مل کے جدا ہو جانا کاش آئے تمہیں پابند وفا ہو جانا اس تصور ہی سے دل کانپ رہا ہے میرا میرے محبوب کا اور مجھ سے جدا ہو جانا یہ سر عرش معلیٰ بھی پہنچ جائے تو کیا نہیں ممکن کبھی انساں کا خدا ہو جانا اہل محفل نے تو سمجھا تھا حقیقت اس کو اک دکھاوا تھا ترا مجھ سے خفا ہو ...

مزید پڑھیے

آپ سے عرض حال کرتے ہیں

آپ سے عرض حال کرتے ہیں واقعی ہم کمال کرتے ہیں آئنہ دل کا ٹوٹ جاتا ہے لاکھ ہم دیکھ بھال کرتے ہیں اسی ظالم سے ہے امید وفا اپنے دل سے سوال کرتے ہیں آپ کے حرف تلخ بھی اکثر زخم کا اندمال کرتے ہیں ذکر ہوتا ہے جب حسینوں کا پیش تیری مثال کرتے ہیں ہم تو عادی ہیں غم اٹھانے کے آپ یوں ہی ...

مزید پڑھیے

محبت کرنے والے کب کسی کا نام لیتے ہیں

محبت کرنے والے کب کسی کا نام لیتے ہیں زباں خاموش رہتی ہے نظر سے کام لیتے ہیں وہ کیسے لوگ ہیں یا رب گراتے ہیں جو انساں کو یقیناً وہ فرشتے ہیں جو بڑھ کر تھام لیتے ہیں تعجب خیز ہے دستور یا رب تیری دنیا کا مٹاتے ہیں جو دنیا کو وہی انعام لیتے ہیں یہی اپنی عبادت ہے یہی ہے بندگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1180 سے 6203