ہم کسی کی بھی کبھی آنکھ کے تارے نہ ہوئے
ہم کسی کی بھی کبھی آنکھ کے تارے نہ ہوئے جن کو چاہا تھا بہت وہ بھی ہمارے نہ ہوئے ڈوبتے ناؤ کو دیکھیں مری جن کو تھی یہ فکر ہائے افسوس وہ دریا کے کنارے نہ ہوئے جو نکو کار تھے دنیا سے وہ اٹھتے ہی گئے تھے جو بد کار وہ اللہ کو پیارے نہ ہوئے کون سی صبح وہ بن کر نہ لب بام آئی کون سی شام کو ...