موت کی خوشبو
جدائی محبت کے دریائے خوں کی معاون ندی ہے وفا یاد کی شاخ مرجاں سے لپٹی ہوئی ہے دل آرام و عشاق سب خوف کے دائرے میں کھڑے ہیں ہواؤں میں بوسوں کی باسی مہک ہے نگاہوں میں خوابوں کے ٹوٹے ہوئے آئنے ہیں دلوں کے جزیروں میں اشکوں کے نیلم چھپے ہیں رگوں میں کوئی رود غم بہہ رہا ہے مگر درد کے بیج ...