فکر نقاد ادب درہم و دینار میں ہے
فکر نقاد ادب درہم و دینار میں ہے کون سی جنس سخن کوچہ و بازار میں ہے گرمیٔ حسن مری گرمیٔ افکار میں ہے وہ اگر مجھ میں نہیں ہے مرے اشعار میں ہے پا بہ زنجیر مجھے لاکھ زمانہ سمجھے مرے قدموں کی دھمک وقت کی رفتار میں ہے رات قابو میں رہے شہر کے حالات مگر لاش اک لپٹی ہوئی صبح کے اخبار ...