قومی زبان

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے گلابی تھا وہ سنولانے سے پہلے سنا ہے کوئی دیوانہ یہاں پر رہا کرتا تھا ویرانے سے پہلے محبت عام سا اک واقعہ تھا ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے کھلا کرتے تھے خوابوں میں کسی کے ترے تکیے پہ مرجھانے سے پہلے

مزید پڑھیے

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم دان یہ فقر کی دولت نہیں کر سکتے ہم اک عداوت سے فراغت نہیں ملتی ورنہ کون کہتا ہے محبت نہیں کر سکتے ہم کسی تعبیر کی صورت میں نکل آتے ہیں اپنے خوابوں میں سکونت نہیں کر سکتے ہم استعاروں کے تکلف میں پڑے ہیں جب سے اپنے ہونے کی وضاحت نہیں کر سکتے ...

مزید پڑھیے

بھنور میں مشورے پانی سے لیتا ہوں

بھنور میں مشورے پانی سے لیتا ہوں میں ہر مشکل کو آسانی سے لیتا ہوں جہاں دانائی دیتی ہے کوئی موقع وہاں میں کام نادانی سے لیتا ہوں وہ منصوبے ہیں کچھ آباد ہونے کے میں جن پر رائے ویرانی سے لیتا ہوں اب اپنے آبلوں کی گھاٹیوں سے بھی سمندر دیکھ آسانی سے لیتا ہوں نہیں لیتا مگر لینے پہ ...

مزید پڑھیے

مکین کو مکان سے نکالئے

مکین کو مکان سے نکالئے یہ نقطہ آسمان سے نکالئے ہمارے ساتھ کیجئے مکالمہ تو خود کو درمیان سے نکالئے خزانہ رہنے دیجئے زمین میں ہوس کو داستان سے نکالئے نمی جگہ بنا رہی ہے آنکھ میں یہ تیر اب کمان سے نکالئے ہماری چپ کو سنتے جائیں غور سے ہماری بات کان سے نکالئے فضاؤں میں پنپ رہی ...

مزید پڑھیے

جہاں چوکھٹ ہے واں زینہ تھا پہلے

جہاں چوکھٹ ہے واں زینہ تھا پہلے مرا مہمان نا بینا تھا پہلے محبت کی مروج داستاں میں کہیں مرنا کہیں جینا تھا پہلے میں دیواروں سے بھی سچ بولتا تھا مرے کمرے میں آئینہ تھا پہلے کسی رخسار کا تل بن چکا ہے ہمارے دل میں جو کینہ تھا پہلے جسے اب تحفتاً لوٹا رہے ہو مرے اجداد سے چھینا تھا ...

مزید پڑھیے

دو آنکھوں سے کم سے کم اک منظر میں

دو آنکھوں سے کم سے کم اک منظر میں دیکھوں رنگ و نور بہم اک منظر میں اپنی کھوج میں سرگرداں بے سمت ہجوم تنہائی دیتی ہے جنم اک منظر میں تتلی کو رخسار پہ بیٹھا چھوڑ آئے حیرت کو درکار تھے ہم اک منظر میں لمحہ لمحہ بھرتے جائیں خوف کا رنگ گہری شام اور تیز قدم اک منظر میں گھات میں بیٹھا ...

مزید پڑھیے

ہوا چلتی ہے دم ٹھہرا ہوا ہے

ہوا چلتی ہے دم ٹھہرا ہوا ہے فضا میں کس کا غم ٹھہرا ہوا ہے تصور میں ابھرتے خال و خد پر مصور کا قلم ٹھہرا ہوا ہے اسی کو اپنی منزل کہہ رہا ہے جہاں جس کا قدم ٹھہرا ہوا ہے سماعت کے جزیروں میں کہیں پر ترے لہجے کا رم ٹھہرا ہوا ہے ذرا ٹھہرو کہ چلتی ہے ابھی سانس چلے آؤ کہ دم ٹھہرا ہوا ...

مزید پڑھیے

خواب میں منظر رہ جاتا ہے

خواب میں منظر رہ جاتا ہے تکیے پر سر رہ جاتا ہے آ پڑتی ہے جھیل آنکھوں میں ہاتھ میں پتھر رہ جاتا ہے روز کسی حیرت کا دھبہ آئینے پر رہ جاتا ہے دل میں بسنے والا اک دن جیب کے اندر رہ جاتا ہے ندیا پر ملنے کا وعدہ میز کے اوپر رہ جاتا ہے سال گزر جاتا ہے سارا اور کلینڈر رہ جاتا ہے آنگن ...

مزید پڑھیے

عریضے کی ڈالی

تری نرم لہروں پہ رکھے دیے اپنے باقی کے ہم راہ گم ہو چکے ہیں دعاؤں، تمناؤں، خوابوں کا موسم اذیت کے کیچڑ میں لتھڑا پڑا ہے خطوں کے لفافے حروف و معنی کے رنگوں سے خالی پڑے ہیں کناروں سے ڈالی گئی درخت کی سرخ رو سازشی پتیاں راستوں کے نشان کھو چکی ہیں مگر۔۔۔ اگلے دن کے حسیں خواب۔۔۔ عریضے ...

مزید پڑھیے

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے گلابی تھا وہ سنولانے سے پہلے سنا ہے کوئی دیوانہ یہاں پر رہا کرتا تھا ویرانے سے پہلے کھلا کرتے تھے خوابوں میں کسی کے ترے تکیے پہ مرجھانے سے پہلے محبت عام سا اک واقعہ تھا ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے نظر آتے تھے ہم اک دوسرے کو زمانے کو نظر آنے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1155 سے 6203