یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہے
یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہے وہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہے گلوں کی گم شدگی سے سراغ ملتا ہے کہیں چمن سے نسیم بہار گزری ہے کہیں سحر کا اجالا ہوا ہے ہم نفسو کہ موج برق سر شاخسار گزری ہے رہا ہے یہ سر شوریدہ مثل شعلہ بلند اگرچہ مجھ پہ قیامت ہزار گزری ہے یہ حادثہ بھی ہوا ہے کہ ...