دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائے
دن ڈھلا شام ہوئی پھول کہیں لہرائے سانپ یادوں کے مہکتے ہوئے ڈسنے آئے وہ کڑی دھوپ کے دن وہ تپش راہ وفا وہ سواد شب گیسو کے گھنیرے سائے دولت طبع سخن گو ہے امانت اس کی جب تری چشم سخن ساز طلب فرمائے جستجوئے غم دوراں کو خرد نکلی تھی کہ جنوں نے غم جاناں کے خزینے پائے سب مجھے مشورۂ ترک ...