قومی زبان

جو دور سے ہمیں اکثر خدا سا لگتا ہے

جو دور سے ہمیں اکثر خدا سا لگتا ہے وہی قریب سے کچھ آشنا سا لگتا ہے کبھی ہماری نگاہوں سے دیکھ لے اس کو پھر اس کے بعد بتا تجھ کو کیسا لگتا ہے تمام رات جلے دن کو سرد مہر بنے بدن کا شہر بھی شہر انا سا لگتا ہے وہ اس کی سہمی سی چاہت جفا کی چلمن میں وہ بے وفا بھی ہمیں با وفا سا لگتا ...

مزید پڑھیے

طفیلی سیارہ

وہ اک لمحہ جس کی تلاش میں میں نے اپنے ارض و سما کی پر اسرار کشش سے نکل کر ایک خیال افروز خلا میں جست لگا دی اور اپنے محور سے بچھڑ کر اس بے چہرہ کاہکشاں کے دوسرے سیاروں کے اثر میں گردش کرنے اور بھٹکتے رہنے میں اک عمر گنوا دی وہ لمحہ اک جگنو بن کر جلتا بجھتا اب بھی مری امیدوں کی خوش ...

مزید پڑھیے

اٹھ کر اس کے در سے اپنے گھر جانا

اٹھ کر اس کے در سے اپنے گھر جانا ہائے کتنا آساں ہوتا مر جانا جس رستے ہر پتھر تک سے یاری تھی مشکل ہے اب اس رستے اکثر جانا دل شاہد ہے ان چارہ گر نظروں کا ان کا اٹھنا ان گھاؤں کا بھر جانا عشق کیا تو جانا کیوں ہوتا ہے یہ ہونٹوں کا مسکانا آنکھیں بھر جانا مرنے کی فرصت ملنے تک ہے ہم ...

مزید پڑھیے

انت سمے بس یہ ہی جھگڑا رہتا ہے

انت سمے بس یہ ہی جھگڑا رہتا ہے دس من لکڑی دو گز کپڑا رہتا ہے دیکھو آگے سوچ سمجھ کر ہی جانا آگے رستہ بے حد سکڑا رہتا ہے اب تو اس کو دیکھے بھی عرصہ گزرا جانے کیوں جی اکھڑا اکھڑا رہتا ہے پنچھی اڑ جاتے ہیں سورج اگتے ہی پیپل گٹا دن بھر اجڑا رہتا ہے چاہت الفت عشق وفا توبہ توبہ چھوڑو ...

مزید پڑھیے

کچھ بیاں کر دی حقیقت کچھ چھپائی ساتھ میں

کچھ بیاں کر دی حقیقت کچھ چھپائی ساتھ میں شاعری اور نوکری دونوں نبھائی ساتھ میں میں اسی دن سے سخنور نام سے جانا گیا اک غزل اس نے بھی میری گنگنائی ساتھ میں ایک دوجے کی نظر کا سامنا نہ کر سکے سامنے آئے تو پھر نظریں جھکائی ساتھ میں دیکھنا سوکھی ہوئی کلیاں کتابوں میں چھپی اور پھر ...

مزید پڑھیے

ادیبوں سے مقرر کی طلب ہے

ادیبوں سے مقرر کی طلب ہے ذرا سی اس سخنور کی طلب ہے اسے بھی ہو طلب میری نظر کی مجھے اس ایک منظر کی طلب ہے ہتھوڑے چھینیوں کو جھیل کر بھی خدا ہو جائے پتھر کی طلب ہے رکھے کوئی مرے گھاؤ پہ مرہم قبا کو بھی رفوگر کی طلب ہے نہیں چلنا مجھے منزل کی جانب تھکا ہوں نرم بستر کی طلب ہے لگی اس ...

مزید پڑھیے

گہرائی تک چبھتا خنجر رہنے دے

گہرائی تک چبھتا خنجر رہنے دے خوں آلودہ دیوار و در رہنے دے دیوانہ اچھا ہے جا کر کہہ دینا اصلی حالت اے نامہ بر رہنے دے عدت رکھنی ہوگی اس کے جانے کی کچھ دن یہ آنکھیں بے منظر رہنے دے گنتی کے لمحے ہوں تو پھر نہ آنا مضطر دل ہے اس کو مضطر رہنے دے میں گھٹنوں میں سر رکھ کر سو جاتا ...

مزید پڑھیے

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیا

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیا کہ مشت خاک تھا افلاک پر اچھال دیا مکاں کو جھوٹے مکینوں سے پاک کرنا تھا سو میں نے اس سے ہر امید کو نکال دیا مری طلب میں تکلف بھی انکسار بھی تھا وہ نکتہ سنج تھا سب میرے حسب حال دیا بدل کے رکھ دیے ہجر و وصال کے مفہوم مجھے تو اس نے بڑی کشمکش میں ڈال ...

مزید پڑھیے

چہرے کو بحال کر رہا ہوں

چہرے کو بحال کر رہا ہوں دنیا کا خیال کر رہا ہوں اک کار محال کر رہا ہوں زندہ ہوں کمال کر رہا ہوں وہ غم جو ابھی ملے نہیں ہیں میں ان کا ملال کر رہا ہوں اشعار بھی دعوت عمل ہیں تقلید بلال کر رہا ہوں تصویر کو آئینہ بنا کر تشریح جمال کر رہا ہوں چہرے پہ جواب چاہتا ہوں آنکھوں سے سوال کر ...

مزید پڑھیے

شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئے

شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئے کتنے یوسف تھے کہ خود ہی سر بازار آئے چھیڑ دی قامت و گیسو کی حکایت ہم نے کسی صورت سے تو ذکر رسن و دار آئے جب بھی زنداں میں اسیروں کو ملا مژدۂ گل میری نظروں میں تمہارے لب و رخسار آئے دوسری راہ وفا میں کوئی منزل ہی نہ تھی جو تری بزم سے اٹھے وہ سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1122 سے 6203