قومی زبان

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیا

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیا مری وفا کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا نہ صرف حسن کی معصومیت پہ تھے الزام خلوص عشق پہ بھی حرف آئے ہیں کیا کیا جنوں کے نام پہ شورش کی تہمتیں رکھ کر خرد نے خود بھی تو فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا اس اک نظر سے بظاہر جو ملتفت بھی نہ تھی مری نگاہ نے پیغام ...

مزید پڑھیے

ھوالشافی

اگر کبھی یہ گمان گزرا کہ زندگی تلخ ہو رہی ہے تو اس مسیحا نفس کو ڈھونڈا جو اس مرض کا طبیب حاذق ہے جس کے شیریں لبوں میں نمکین عارضوں میں غزال آنکھوں کی گہری جھیلوں میں آب حیواں چھلک رہا ہے جو میری تنہائی کا مداوا مرے مرض کے لیے دوا ہے کہ شربت‌ دید ہی تو ان تلخ کامیوں کے لیے شفا ہے

مزید پڑھیے

ذرہ

دشت کی بے پایاں وسعت میں کوہساروں کے دامن میں ذرہ اپنے ہونے اور نہ ہونے کا دکھ جھیل رہا تھا ذرہ جو خود اپنے وجود میں ایک مکمل دنیا ہے جس کے بطن میں سارا نظام شمس و قمر پوشیدہ ہے جس کی وحدت کے سینے میں نظر نہ آنے والی کثرت کا جلوہ ہے اہل نظر نے پچھلی صدی میں اس پامال ضمیر کے اندر اس ...

مزید پڑھیے

ہم انجام

مری مانند وہ بھی ظلمت شب کی مسافر تھی اندھیرے راستوں میں صبح نو کے خواب آنکھوں میں سجائے بہ نام منزل بے نام افتاں اور خیزاں قدم اپنے بڑھائے سحر کا خواب آنکھوں میں سجائے سفر جتنا بھی ہم طے کر رہے تھے مسافت تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی سکوت صبح کی مایوسیوں میں جو اک تنہا رفیق رہروی ...

مزید پڑھیے

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے بزم سی بزم ہے تنہائی سی تنہائی ہے وہ ہے خاموش مگر اس کے سکوت لب پر رقص کرتا ہوا اک عالم گویائی ہے جب اندھیرے مری آنکھوں کا لہو چاٹ چکے تب ان آنکھوں میں رفاقت کی چمک آئی ہے اب خدا اس کو بنایا ہے تو یاد آتا ہے جیسے اس بت سے تو برسوں کی شناسائی ...

مزید پڑھیے

میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہن

میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہن شب بھر مرے وجود میں مہکا ترا بدن ہوں اپنے ہی ہجوم تمنا میں اجنبی میں اپنے ہی دیار نفس میں جلا وطن سب پتھروں پہ نام لکھے تھے رفیقوں کے ہر زخم سر ہے سنگ ملامت پہ خندہ زن اب دشت بے اماں ہی میں شاید ملے پناہ گھر کی کھلی فضا میں تو بڑھنے لگی ...

مزید پڑھیے

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں اور دل مائل ہوس بھی نہیں اب کہاں جائیں گے خراب بہار آشیاں بھی نہیں قفس بھی نہیں برق کی بیکسی کو روتا ہوں اب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں کس نے دیکھا شگفتگی کا مآل زندگی اتنی دور رس بھی نہیں ہم اسیروں کے واسطے سرشار رسم پابندئ قفس بھی نہیں

مزید پڑھیے

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھ

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھ میں اک نئے سفر پہ ہوں اپنی انا کے ساتھ میں نے عبادتوں کو محبت بنا دیا آنکھیں بتوں کے ساتھ رہیں دل خدا کے ساتھ کس قحط اعتبار سے گزرے ہیں اہل دل رنگ وفا بھی اڑ گیا رنگ حنا کے ساتھ میرا وجود حرف تقاضا بنا ہوا مہر قبول اس کے لبوں پر حیا کے ...

مزید پڑھیے

صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگو

صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگو وہ عالم وحشت ہے کہ مر جاؤ گے لوگو یادوں کے تعاقب میں اگر جاؤ گے لوگو میری ہی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے لوگو وہ موج صبا بھی ہو تو ہشیار ہی رہنا سوکھے ہوئے پتے ہو بکھر جاؤ گے لوگو اس خاک پہ موسم تو گزرتے ہی رہے ہیں موسم ہی تو ہو تم بھی گزر جاؤ گے ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے صاحب دل تو جہاں بھی رہے بدنام رہے کوئی تقریب تو ہو دل کے بہلنے کے لئے تو نہیں ہے تو ترا ذکر ترا نام رہے ہم کو تو راس ہی آئی کسی کمسن کی وفا ہائے وہ لوگ محبت میں جو ناکام رہے اس ارادے سے اٹھایا ہے چھلکتا ہوا جام ہم رہیں آج کہ یہ گردش ایام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1123 سے 6203