قومی زبان

آرزوؤں کے شگوفوں کو جلا کر دیکھو

آرزوؤں کے شگوفوں کو جلا کر دیکھو کتنی خالص ہے محبت پہ تپا کر دیکھو بہر دنیا کے تلاطم میں خلوص اور وفا کچی مٹی کے گھروندے ہیں بنا کر دیکھو بات کچھ قہقہوں کچھ طعنوں میں دب جائے گی داستاں درد کی اپنوں کو سنا کر دیکھو لوگ انگارے بجھا دیں گے گزر گاہوں میں اک قدم پیار کے رستے پہ بڑھا ...

مزید پڑھیے

صلیب لاد کے کاندھے پہ چل رہا ہوں میں

صلیب لاد کے کاندھے پہ چل رہا ہوں میں حصار ذات سے باہر نکل رہا ہوں میں حیات ڈھونڈھتی پھرتی ہے مجھ کو سر گرداں ادھورا جسم لیے رخ بدل رہا ہوں میں بنا دیا ہے زمانے نے مجھ کو پتھر سا کہ ضرب تیشہ سے آتش اگل رہا ہوں میں مری نگاہ میں دنیا چتا کی راکھ سی ہے اسی خیال کے شعلوں میں جل رہا ...

مزید پڑھیے

ہمارے جسم نے جس جسم کو بلایا ہے

ہمارے جسم نے جس جسم کو بلایا ہے وہ روح بن کے کھڑا دور مسکرایا ہے پتا چلا کبھی شہر انا وہیں پر تھا جہاں کھنڈر پہ نیا شہر اب بسایا ہے حیات ناؤ ہے کاغذ کی بارہا جس پر اڑایا آندھیوں نے سیل نے بہایا ہے جس آئنہ پہ دھندلکوں نے کھینچ دی چلمن اسی نے عکس ہمارا ہمیں دکھایا ہے کوئی کھڑا ہے ...

مزید پڑھیے

زمیں کی وسعتوں سے آسماں تک

زمیں کی وسعتوں سے آسماں تک کہانی اپنی جا پہنچی کہاں تک لگی تھی آگ جو صحن چمن میں وہ آ پہنچی ہمارے آشیاں تک بتا دے ہم کو اتنا راہبر اب بھٹکنا ہے ہمیں آخر کہاں تک کسی کے حسن کا وہ رعب توبہ شکایت رہ گئی آ کر زباں تک چلی تھی بات میری داستاں سے وہ آ پہنچی تمہاری داستاں تک جو ...

مزید پڑھیے

کیسی ہے یہ بہار مقدر کی بات ہے

کیسی ہے یہ بہار مقدر کی بات ہے دامن ہے تار تار مقدر کی بات ہے کیا قہر ہے کہ رنگ ہے پھولوں کا زرد زرد کانٹوں پہ ہے نکھار مقدر کی بات ہے اس مختصر حیات میں اتنی مصیبتیں کس کو ہے اختیار مقدر کی بات ہے اے دوست آگہی ہمیں کوشش کے باوجود آئی نہ سازگار مقدر کی بات ہے ہر گام پر فریب دئے ...

مزید پڑھیے

آنکھ اٹھے گی تو دیوانہ گرے گا

آنکھ اٹھے گی تو دیوانہ گرے گا جھیل دیکھے سے کوئی پیاسا گرے گا آج عریانی کھلے گی شاخ گل کی آج کی شب آخری پتا گرے گا رات بھر ٹھٹھرے کسی کے عہد پر ہم کیا خبر تھی اس قدر پارہ گرے گا ٹوٹتے رشتے نہ شائع ہوں کہیں سو کھڑکیوں پر بے وجہ پردہ گرے گا آج جو کچلا گیا بوٹوں کے نیچے آنکھ میں اک ...

مزید پڑھیے

سب گھروں میں تو چراغوں کا اجالا ہوگا

سب گھروں میں تو چراغوں کا اجالا ہوگا لیکن افسردہ فقط رات کا چہرا ہوگا ساری پرچھائیاں گوشوں میں دبک جائیں گی سورج ابھرے گا تو یہ گاؤں اکیلا ہوگا ہم تو وابستہ رہے غم سے وفا کے مارے غم نے کیا جانئے کیوں کر ہمیں چاہا ہوگا جب کھلی ہوں گی تمنا کے شجر پر کلیاں دشت امید میں طوفان سا ...

مزید پڑھیے

آیا تھا کوئی ذہن تک آ کر پلٹ گیا

آیا تھا کوئی ذہن تک آ کر پلٹ گیا لیکن بساط دل تو ہماری الٹ گیا ہائے وہ سیل اشک جو پلکوں پہ تھم گیا آنکھوں میں اپنی آج سمندر سمٹ گیا پھیلائے ہم کھڑے رہے پلکوں کی جھولیاں آیا امڈ کے ابر مگر وہ بھی چھٹ گیا تیری گلی میں تیرا تصور کیے ہوئے اک شخص آپ سائے سے اپنے لپٹ گیا دشت حیات سے ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں سے نگہ اس کو ڈھونڈ لائے ہے

کہاں کہاں سے نگہ اس کو ڈھونڈ لائے ہے کسی کے ساتھ سہی وہ نظر تو آئے ہے فلک سے جیسے ستارہ زمین پر اترے مری گلی میں وہ محشر خرام آئے ہے فضائے فکر میں وہ چاند بن کے چمکا ہے شب فراق کی رنگت بدلتی جائے ہے خدا گواہ خدا تو نہیں وہ شخص مگر اسی کا نام مکرر لبوں پہ آئے ہے کہاں کہاں نہ جلائے ...

مزید پڑھیے

درد دل کے لیے کچھ ایسی دوا لی ہم نے

درد دل کے لیے کچھ ایسی دوا لی ہم نے ٹیس گر کم بھی ہوئی اور بڑھا لی ہم نے اپنے اشکوں کو تبسم سے چھپایا جیسے جسم عریاں تھا تو پارینہ قبا لی ہم نے عمر بھر شہر نگاراں میں وفا کو ترسے اپنی ناکردہ گناہی کی سزا لی ہم نے چیختے لمحوں سے اندر کا نہ رشتہ ٹوٹا ورنہ باہر کی تو خاموش فضا لی ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1121 سے 6203