قومی زبان

بتاؤ تو تمہیں کیسی لگی ہے

بتاؤ تو تمہیں کیسی لگی ہے مرے ماتھے پہ جو بندی لگی ہے سبھی شہدے اکٹھا ہو گئے ہیں یہاں کیا حسن کی منڈی لگی ہے برہمن زاد ہوں یہ دھیان رکھنا سنا ہے پھر کوئی اچھی لگی ہے یقیں کر لو مرے ہاتھوں میں اب تک تمہارے نام کی مہندی لگی ہے

مزید پڑھیے

وصل کو ہجر کی دوا سمجھے

وصل کو ہجر کی دوا سمجھے ہائے یہ آج کل کے نا سمجھے ایک بچے کی توتلی باتیں تم نہ سمجھے تو اور کیا سمجھے میں ترے مسئلے میں پڑ گیا ہوں اب مرے مسئلے خدا سمجھے ایک آزر نے دست کاری کی لوگ پتھر کو دیوتا سمجھے چند مصرعے گڑھے غزل کہہ لی اور خود کو بہت بڑا سمجھے اک مثلث کے تین کونے ...

مزید پڑھیے

میان جنگ مسلسل کمان کھینچ کے رکھ

میان جنگ مسلسل کمان کھینچ کے رکھ گہر ہر ایک شناور کا دھیان کھینچ کے رکھ تو اپنے آپ میں عالی مقام ہو کہ نہ ہو بس اپنے سامنے والوں کے کان کھینچ کے رکھ ہزار زور دکھاویں تجھے یہ برساتیں مرے عقاب تو اپنی اڑان کھینچ کے رکھ ابھی چھلانگ لگائے گا آسماں والا تو بس زمین پہ کپڑے کا تھان ...

مزید پڑھیے

جب سے مدھم مری قسمت کے ستارے ہوئے ہیں

جب سے مدھم مری قسمت کے ستارے ہوئے ہیں نفع کے نام پہ بھی مجھ کو خسارے ہوئے ہیں ایک تم ہو کہ مقدر کے سکندر ٹھہرے ایک ہم ہیں کہ جو حالات کے مارے ہوئے ہیں بھول جاتے ہیں ہر اک داغ جگر عید کے دن پر وہ لمحے جو ترے ساتھ گزارے ہوئے ہیں ایک جھپکی میں ہی ممکن ہے کہ کنکر بن جائیں یہ جو کچھ ...

مزید پڑھیے

بے کرانی تھی پس باب مقفل قید تھا

بے کرانی تھی پس باب مقفل قید تھا عشق کا مارا کسی غم میں مسلسل قید تھا وہ حریم دل سے باہر تھا مگر اس کا خیال دل کے اندر ہی کسی خانے میں بیکل قید تھا آخرش اس کو بھی اب سولی پہ لٹکایا گیا زندگی بھر جو پس دیوار مقتل قید تھا مثل برکش زندگی جیتا تھا رہا در یتیم وہ رہائی کے دنوں میں بھی ...

مزید پڑھیے

طرز مجہول سر چشم نمودار ہوئے

طرز مجہول سر چشم نمودار ہوئے پھول ہی پھول سر چشم نمودار ہوئے حرف جتنے بھی روانہ تھے سوئے عرش بریں ہو کے مقبول سر چشم نمودار ہوئے چشم حیراں کہ شب وصل مع تشنہ دہن چشم مبلول سر چشم نمودار ہوئے ایک عاجز کو تھمائی گئی شمشیر انا پھر جو مقتول سر چشم نمودار ہوئے مرثیہ ہے کہ کئی پھول ...

مزید پڑھیے

دنیائے ہست و بود سے آگے کی بات کر

دنیائے ہست و بود سے آگے کی بات کر اے روح اب وجود سے آگے کی بات کر مجھ کو کتاب کن کا ہر اک باب حفظ ہے تو عاد اور ثمود سے آگے کی بات کر مجھ کو فراز عشق بتا واعظ عزیز اب زہد سے سجود سے آگے کی بات کر اس دور میں شہید کے وارث کو مال دے پھر شاہد و شہود سے آگے کی بات کر لب کھول علم و فن کے ...

مزید پڑھیے

رات دن آگ میں پلا سورج

رات دن آگ میں پلا سورج بن چراغ حرم جلا سورج زندگی دھوپ چھاؤں دونوں ہے ہر کسی کو سکھا گیا سورج آج جی بھر کے دھوپ کھانی ہے مدتوں بعد ہے اگا سورج سانجھ سے اب وصال ہونے کو ہے سہما سہما تھکا تھکا سورج سامنا پیاس سے ہوا جب جب آب کی سمت چل پڑا سورج بھول جا رات کا چبھا کانٹا پھول اب تو ...

مزید پڑھیے

روز اک راستہ بدلتا ہے

روز اک راستہ بدلتا ہے میرا دل بے خودی میں چلتا ہے آندھیاں ہی اکھاڑتی ہیں اسے آندھیوں میں ہی پیڑ پلتا ہے باغ نے کس سے دشمنی کر لی کون ہر پھول کو مسلتا ہے جانتا ہی نہیں یہاں کوئی کس بہانے سے دل بہلتا ہے پار ہو جائے دشت ہی سیماؔ نیند میں اتنا کون چلتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1109 سے 6203