اکلوتی جاگیر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ہیں
اکلوتی جاگیر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ہیں ہم تیری تصویر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ہیں بیٹھے بیٹھے آزادی کے خواب سجاتے رہتے ہیں پھر پیروں کی زنجیر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ہیں کاغذ پر پیچیدہ مصرعوں کی بھر مار لگا دیتے ہیں پھر دیوان میر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ...