قومی زبان

اکلوتی جاگیر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ہیں

اکلوتی جاگیر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ہیں ہم تیری تصویر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ہیں بیٹھے بیٹھے آزادی کے خواب سجاتے رہتے ہیں پھر پیروں کی زنجیر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ہیں کاغذ پر پیچیدہ مصرعوں کی بھر مار لگا دیتے ہیں پھر دیوان میر کو تکتے تکتے تھک کر سو جاتے ...

مزید پڑھیے

ببول کر دیا بدن جواں رتوں کی چاہ نے

ببول کر دیا بدن جواں رتوں کی چاہ نے جلا دیا گلاب کو چمن کی سرد آہ نے ستم ظریف یوں عدالتوں میں چپ کھڑے ہیں سب کہ جیسے سی لیے ہوں لب ثبوت نے گواہ نے کسی کو خاص منزلوں کا شوق عام کر گیا کسی کو خاص کر دیا ہے عام شاہراہ نے نگاہ بے زبان نے گرا دیا زمین پر چڑھا دیا ہے دار پر زبان بے نگاہ ...

مزید پڑھیے

زمیں تا آسماں دھواں دھواں دھواں

زمیں تا آسماں دھواں دھواں دھواں دھواں فقط دھواں دھواں دھواں دھواں بس ایک بوسۂ زمین و مشتری تمام کہکشاں دھواں دھواں دھواں یقین در یقین آگ صرف آگ گمان در گماں دھواں دھواں دھواں فگار جسم و جاں لہو لہو لہو قرار جسم و جاں دھواں دھواں دھواں حریم با اثر طلسم رنگ و بو بہشت بے کراں ...

مزید پڑھیے

دریاؤں سے نور لیا اور مٹی کو پر نور کیا

دریاؤں سے نور لیا اور مٹی کو پر نور کیا ہریالی کو دھرتی ماں کے ماتھے کا سندور کیا پتھر کو آکار دیا کچھ زیور شیور لاد دیا اور پھر اس دیوی کو اپنی رکشا پر مامور کیا سورج طیش میں آ کے ساری فصل جلانے والا تھا ابر کی تلخ کلامی نے اس مٹی کو کافور کیا آزر سنگ تراشی چھوڑ کے شیشہ گر بن ...

مزید پڑھیے

آسماں بھی پکارتا ہے مجھے

آسماں بھی پکارتا ہے مجھے آشیاں بھی لبھا رہا ہے مجھے عکس آخر کہاں گیا میرا آئنہ کیوں چھپا رہا ہے مجھے مجھ میں سورج اگا کے چاہت کا وہ سویرا سا کر گیا ہے مجھے غم کی بارش سے بن گئی دریا اک سمندر بلا رہا ہے مجھے صبح کی سرد سی فضا تھی میں غم کا سورج تپا رہا ہے مجھے میرے اندر بھنور ...

مزید پڑھیے

ذرے ذرے ہیں عکس کے ہر سو

ذرے ذرے ہیں عکس کے ہر سو ریزہ ریزہ ہیں آئینے ہر سو یاد کی برق ہو گئی رقصاں اور آنسو برس پڑے ہر سو جب سے پانی مرا ہے آنکھوں کا شہر کے شہر جل گئے ہر سو خوشبوئیں گم ہوئی کہاں جانے کاغذی پھول ہی ملے ہر سو ڈھلتے سورج نے رات بوئی تھی گل ستاروں کے کھل گئے ہر سو شب کا گھونگھٹ اٹھایا ...

مزید پڑھیے

مرے خطوں کو جلانے سے کچھ نہیں ہوگا

مرے خطوں کو جلانے سے کچھ نہیں ہوگا ہوا میں راکھ اڑانے سے کچھ نہیں ہوگا سمجھنے والے تو دل کی زباں سمجھتے ہیں محبتوں کو جتانے سے کچھ نہیں ہوگا ستم ظریفی رہی وقت کی جو دل ٹوٹا کسی پہ دوش لگانے سے کچھ نہیں ہوگا نئی اڑان کی خاطر پروں کو تول ذرا قفس میں شور مچانے سے کچھ نہیں ...

مزید پڑھیے

حقیقت زیست کی سمجھا نہیں ہے

حقیقت زیست کی سمجھا نہیں ہے وہ اپنے دشت سے گزرا نہیں ہے اندھیرے رقص کرتے ہیں مسلسل کہ سورج رات کو آتا نہیں ہے کرے گا خود کشی ہی ایک دن وہ سکوں جس ذہن کو ملتا نہیں ہے اٹھائے گھومتی ہے زرد پتے ہوا سے اور کچھ چلتا نہیں ہے نہ ڈوبو شمع میں پروانو تم، یہ دہکتی آگ ہے دریا نہیں ...

مزید پڑھیے

بتاؤ موت کیا ہے زندگی کیا

بتاؤ موت کیا ہے زندگی کیا کسی نے بھید یہ کھولا کبھی کیا یہ آنکھیں سرخ سی کیوں ہو رہی ہیں کسی کی یاد کی بارش ہوئی کیا بجھے ہیں کیوں چراغ دل سبھی کے ہوا نے کی ہے کوئی دل لگی کیا ہنسے کیوں پھول سارے کھلکھلا کر کسی نے کی ہے ان کو گدگدی کیا محبت تو محبت ہی ہے صاحب کہوں اس کو بری کیا ...

مزید پڑھیے

نقش آنکھوں میں اتارا جائے گا

نقش آنکھوں میں اتارا جائے گا پھر سفر میں دن گزارہ جائے گا پہلے داخل ہوگا شب کے شہر میں پھر سویرے کو پکارا جائے گا جب امیدیں ختم سب ہو جائیں گی وقت پھر کیسے گزارہ جائے گا ہار کرنوں کا بنا کر جھیل کے آئنہ میں دن سنوارا جائے گا دیکھ لے گر اک نظر سورج اسے کہرہ یہ بے موت مارا جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1110 سے 6203