پائی نہ کوئی منزل پہنچیں نہ کہیں راہیں
پائی نہ کوئی منزل پہنچیں نہ کہیں راہیں بھٹکا کے رہیں مجھ کو آوارہ گزر گاہیں آلام زمانہ سے چھوٹیں تو تجھے چاہیں مصروف مشقت ہیں حسرت سے بھری بانہیں صحرا ہی سے گزری تھیں کھوئی گئیں جو راہیں بتلائیں گے یہ چشمے یہ بن یہ چراگاہیں شمشیر کی زد پر ہیں کچھ اور ہمیں جیسے ہنگام تقاضا کیا ...