ادھر موسم کی یہ خوش اہتمامی
ادھر موسم کی یہ خوش اہتمامی ادھر رندوں کی یہ حسرت بجامی ہوائیں چل رہی ہیں سنسناتی گھٹائیں اٹھ رہیں ہیں دھوم دھامی یہ ہے عکس ہلال اے موج ساحل کہ شمشیر بدن کی بے نیامی پھڑکتا جا مثال بال جبریل نہ چپ ہو اے دل اے میرے پیامی کھلے ہیں پانچ در اک سمت دریا نوشتے میں یہیں تھی ایک ...