قومی زبان

بچے ہوئے تھے جو پتے یہاں خزاؤں سے

بچے ہوئے تھے جو پتے یہاں خزاؤں سے بکھر گئے ہیں وہی نرم رو ہواؤں سے تپی منڈیر پہ بیٹھا ہوا پرندہ ہے ڈرا ہوا ہے وہ شاید شجر کی چھاؤں سے رتوں نے دیکھ لیا ہے چلن زمینوں کا برس رہی ہے تمازت یہاں گھٹاؤں سے فضائے شب سے کوئی آفتاب گزرا ہے سکوت گونج رہا ہے ابھی صداؤں سے عجیب روپ میں ...

مزید پڑھیے

برستی آگ میں گھر سے نکل کے دیکھتے ہیں

برستی آگ میں گھر سے نکل کے دیکھتے ہیں ہم آج موم کی صورت پگھل کے دیکھتے ہیں مقام شکر ہے اس دور میں بھی اہل نظر ادب کے چہرے پہ جگنو غزل کے دیکھتے ہیں ہزار ہم پہ کرے طنز دل کا آئینہ نئے زمانہ کے سانچے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں ہماری ماں ہمیں پہچانتی ہے یا کہ نہیں وطن کی آگ کو چہرے پہ مل ...

مزید پڑھیے

مسند نشین ہونے کی چاہت نہیں مجھے

مسند نشین ہونے کی چاہت نہیں مجھے منظور بے حسوں کی قیادت نہیں مجھے حق بات کے عوض میں ملی ہے سزائے موت گستاخیٔ زباں پہ ندامت نہیں مجھے نیچی بہت ہے قد سے مرے آسماں کی چھت ورنہ فلک سے کوئی شکایت نہیں مجھے قرآن جب پڑھا تو ہوا مجھ پہ منکشف دے گی فقط نماز ہی جنت نہیں مجھے میرا وجود ...

مزید پڑھیے

پتھ ہے دشوار کیا ہوا سائیں

پتھ ہے دشوار کیا ہوا سائیں ہارتا کیوں ہے حوصلہ سائیں ہم ستاروں کے ساتھ جاگتے تھے اب نہیں ہوتا رتجگا سائیں میں فضا میں تھا برگ آوارہ خود کو کیسے سنبھالتا سائیں آپ دیکھیں نہ مجھ کو حیرت سے رنگ و روغن اتر گیا سائیں فرصت یک نگاہ کس کو تھی جو مری اور دیکھتا سائیں میرے احباب ہیں ...

مزید پڑھیے

نہ خود کو زمانے سے انجان رکھ

نہ خود کو زمانے سے انجان رکھ کھلی اپنی آنکھیں کھلے کان رکھ نہیں رہتا یکساں رتوں کا مزاج سفر میں ضرورت کے سامان رکھ کہیں وقت سے پہلے مرجھا نہ جائے کچن سے بہت دور گلدان رکھ کہاں تجھ سے لغزش ہوئی پہلے سوچ نہ بے جا کسی پر بھی بہتان رکھ ہوا نرم چلنے کو بیتاب ہے امس ختم ہونے کا ...

مزید پڑھیے

آج بھی وہ اسی سبھاؤ کا ہے

آج بھی وہ اسی سبھاؤ کا ہے وہی انداز رکھ رکھاؤ کا ہے زندگی سے نظر ملا کے چلو راستہ اک یہی بچاؤ کا ہے اس کو بھولیں تو کس طرح بھولیں اس سے رشتہ عجب لگاؤ کا ہے زندگی کیا ہے کیا بتائیں تمہیں ہاتھ سے روکنا بہاؤ کا ہے جی میں آتا ہے بات کرتے جائیں اس کا لہجہ بھی کیا رچاؤ کا ہے جو دہکتا ...

مزید پڑھیے

سر گرانی تھی شادمانی تھی

سر گرانی تھی شادمانی تھی مہربانی تھی بد گمانی تھی زندگی نے اسے سنا ہی نہیں آرزوؤں کی جو کہانی تھی رات بیتی جو شاہراہوں پر کیا بتائیں کہاں بتانی تھی تبصرہ زندگی پہ کیا کرتے بڑی الجھی ہوئی کہانی تھی تجھ سے بچھڑے تو اپنے پاس رہے بس ادھوری سی زندگانی تھی اس طرح کس کو پیاس ہوتی ...

مزید پڑھیے

یہ دھڑکنوں کا ترنم فریب ہی تو نہیں

یہ دھڑکنوں کا ترنم فریب ہی تو نہیں کسی نے دور سے آواز مجھ کو دی تو نہیں ترے بغیر بھی کٹ جائے گی حیات مگر یہ خود فریبئ احساس زندگی تو نہیں ہزار تیرہ و تاریک راہ منزل ہے کبھی نہ ختم ہو یہ ایسی تیرگی تو نہیں اسی میں سارے گلستاں کی آگ شامل ہے یہ صرف میرے نشیمن کی روشنی تو نہیں بہت ...

مزید پڑھیے

پیکر حسن جب اڑان میں تھا

پیکر حسن جب اڑان میں تھا رنگ ہی رنگ آسمان میں تھا تجھ کو دیکھا مگر کہاں دیکھا ایک احساس درمیان میں تھا زندگی کتنی خوب صورت تھی آرزؤں کے سائبان میں تھا ایک جنس وفا نہ تھی ورنہ کیا نہیں حسن کی دکان میں تھا زندگی تیری چاہتوں کی قسم ہر قدم میں ہی امتحان میں تھا سب نے اپنی ہی ...

مزید پڑھیے

نظر سے دور ہے دل سے قریب تر ہے کوئی

نظر سے دور ہے دل سے قریب تر ہے کوئی تو پھر یہ کیسے کہوں مجھ سے بے خبر ہے کوئی یہ عہد کیسے کروں تجھ کو بھول جاؤں گا کہاں یقین دل بے قرار پر ہے کوئی بہت حسین شب انتظار ہے لیکن تمہی بتاؤ کہ اس رات کی سحر ہے کوئی ترے تصور رنگیں میں یوں نظر گم ہے میں اب وہاں ہوں کسے فرصت نظر ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1051 سے 6203