قومی زبان

راہزن راہوں میں اپنے جال پھیلاتے رہے

راہزن راہوں میں اپنے جال پھیلاتے رہے ہم مگر اپنی ہی دھن میں جھومتے گاتے رہے دور جتنی دور تک تھیں رات کی تاریکیاں دور اتنی دور ہم راہوں کو چمکاتے رہے منحصر ہے اپنے اپنے عزم پر منزل رسی قافلے یوں تو بہت آتے رہے جاتے رہے ہر تسلی دشمن آرام جاں بنتی گئی آپ کے خط اور دل کے زخم گہراتے ...

مزید پڑھیے

درد و غم کا بیاں نہیں معلوم

درد و غم کا بیاں نہیں معلوم پیار کی داستاں نہیں معلوم راہ میں ہم اکیلے بیٹھے ہیں کب گیا کارواں نہیں معلوم حشر ساماں ہیں آج کے حالات ہوں گے کل ہم کہاں نہیں معلوم احتراماً ہیں لوگ جور پہ چپ کب کھلے گی زباں نہیں معلوم دل زمانے سے ہم لگا بیٹھے اس کا سود و زیاں نہیں معلوم ہے دھواں ...

مزید پڑھیے

عکس رنج و ملال ہیں ہم لوگ

عکس رنج و ملال ہیں ہم لوگ زندگی کا مآل ہیں ہم لوگ گاہ سادہ فسانہ ہیں ہمدم گاہ رنگیں خیال ہیں ہم لوگ ساز ماضی رباب فردا کبھی اور کبھی چنگ حال ہیں ہم لوگ جس کا اب تک جواب بن نہ پڑا ایک ایسا سوال ہیں ہم لوگ دکھ جھپٹتے ہیں ہم پہ یوں جیسے اک غنیمت کا مال ہیں ہم لوگ پیتے ہیں زہر اشک ...

مزید پڑھیے

ہم کو جہاں کی عشرت و راحت سے کیا غرض

ہم کو جہاں کی عشرت و راحت سے کیا غرض دنیائے بے ثبات کی دولت سے کیا غرض گمنام رہنا اپنے مقدر میں ہے لکھا ہم کو کسی کے گوہر شہرت سے کیا غرض ماضی کا تلخ جام ہے اپنے نصیب میں ہم کو شراب حال کی لذت سے کیا غرض الزام سے بچے نہ پیمبر بھی ہے خبر یاران جہل کی ہمیں تہمت سے کیا غرض دیکھے نہ ...

مزید پڑھیے

مشعل درد کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے

مشعل درد کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے آج ہر زخم کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے پھر چلے ان کی حدیث لب و رخسار چلو دار پر ہم کو چڑھا آؤ کہ کچھ رات کٹے وہ تو سب بھر گئے اب تک جو ملے تھے یارو اب کوئی زخم نیا کھاؤ کہ کچھ رات کٹے تلخی زیست کے سناٹے سے ڈر لگتا ہے پھر غم یار کو بلواؤ کہ کچھ رات ...

مزید پڑھیے

عجب ہے پیار کے بدلے کا اب چلن یارو

عجب ہے پیار کے بدلے کا اب چلن یارو ہے زخم زخم سے چھلنی مرا بدن یارو دریدہ پیرہنی اپنی ہے بہت ہم کو بہار لے لو تمہیں لے لو اب چمن یارو تمہارے لب پہ کھلا خندہ سب نے دیکھا ہے مگر ہمیں نے ہے دیکھا تمہارا من یارو پرائے دیس کی بیگانگی کو کیا روئیں تھے ہم تو اپنے وطن میں بھی بے وطن ...

مزید پڑھیے

عزم منزل رسی کی بات کریں

عزم منزل رسی کی بات کریں دوستو زندگی کی بات کریں عظمت آدمی کی بات کریں شان اسکندری کی بات کریں دین و دنیا کی کفر و ایماں کی آج آؤ سبھی کی بات کریں رنج و غم تو ہیں روز کے عنواں آج حظ و خوشی کی بات کریں آج گیسوئے وقت سلجھائیں پھر کبھی عاشقی کی بات کریں

مزید پڑھیے

حسیں وہ چہرہ ہے مہتاب کا جواب کوئی

حسیں وہ چہرہ ہے مہتاب کا جواب کوئی کہ میرے آگے ہے اک نور کی کتاب کوئی تمام عمر اسے حاجت سرور نہیں تمہاری آنکھ سے پی لے اگر شراب کوئی وجود پاتا ہوں خوشبو کا آج اپنے گرد کھلا ہے ان کی نوازش کا پھر گلاب کوئی نہ لے سکا کوئی جب چٹکیوں میں ذروں کو چلا ہے آج پکڑنے کو آفتاب کوئی ہے ...

مزید پڑھیے

جینا اگر جہاں میں ہے ایسا کرے کوئی

جینا اگر جہاں میں ہے ایسا کرے کوئی غم دن میں کھائے رات کو رویا کرے کوئی بستی میں جانتے ہیں سبھی ہم کو ہم ہیں کیا بستی میں آج کیوں ہمیں رسوا کرے کوئی فرصت ہے کس کو شہر میں جو سوچتا رہے کوئی کرے برائی کہ اچھا کرے کوئی بے وقت کی صلیب پہ لٹکے ہوئے ہیں آج کس منہ سے دوست تیری تمنا کرے ...

مزید پڑھیے

اب بھی اک واردات باقی ہے

اب بھی اک واردات باقی ہے دن ہوا قتل رات باقی ہے ہو گئی دفن آس کی دلہن درد و غم کی برات باقی ہے کیا ہوا ساتھ آپ نے چھوڑا غم زدہ دل کا سات باقی ہے زندگی گو نہیں ہے شہروں میں جنگلوں میں حیات باقی ہے بات تو ہو چکی تھی ختم مگر جانے کیوں پھر بھی بات باقی ہے رنج سہنے کے واسطے شاغلؔ اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1014 سے 6203