غنچہ غنچہ موسم رنگ ادا میں قید تھا
غنچہ غنچہ موسم رنگ ادا میں قید تھا دل وہ ناداں تھا کہ اپنی ہی انا میں قید تھا آنکھ کی مومی گلی پیاسی تھی پیاسی ہی رہی شبنمی بادل زمانے کی ہوا میں قید تھا بے رخی کی گھر کی دیواروں پہ تھی چونا کلی ذرہ ذرہ اجنبیت کی فضا میں قید تھا آسماں کے طاق پر سجتے رہے اک اک چراغ میں زمیں کا ...