قومی زبان

غنچہ غنچہ موسم رنگ ادا میں قید تھا

غنچہ غنچہ موسم رنگ ادا میں قید تھا دل وہ ناداں تھا کہ اپنی ہی انا میں قید تھا آنکھ کی مومی گلی پیاسی تھی پیاسی ہی رہی شبنمی بادل زمانے کی ہوا میں قید تھا بے رخی کی گھر کی دیواروں پہ تھی چونا کلی ذرہ ذرہ اجنبیت کی فضا میں قید تھا آسماں کے طاق پر سجتے رہے اک اک چراغ میں زمیں کا ...

مزید پڑھیے

گرم جوشی کے نگر میں سرد تنہائی ملی

گرم جوشی کے نگر میں سرد تنہائی ملی چاندنی اس پیکر خاکی کو گہنائی ملی بجھ گیا پھر شام کے صحرا میں سورج کا خیال پھر مہ و انجم کو جی اٹھنے کی رسوائی ملی پھر کوئی مثل صبا آیا ہے صحن خواب میں پھر مرے ہر زخم کو یادوں کی پروائی ملی اک پرانے نقش کے مانند سورج بجھ گیا شب کے شانے پر ...

مزید پڑھیے

اہل دنیا کے لیے یہ ماجرا ہے مختلف

اہل دنیا کے لیے یہ ماجرا ہے مختلف پتھروں کے شہر میں ایک آئنہ ہے مختلف میرے بچے کتنے حیراں ہیں کہ ان کے واسطے پیش رو کے نقش پا کا سلسلہ ہے مختلف ڈولتی ہے سانس کے طوفاں میں کشتی زیست کی بادبانی کے لیے اب کے ہوا ہے مختلف ساعتوں کی دھوپ نے جب بھی تسلی دی گھنی قد و قامت اپنے سائے کا ...

مزید پڑھیے

تصور سے تیرے جو آباد ہوگی

تصور سے تیرے جو آباد ہوگی تو پھر دل کی دنیا نہ برباد ہوگی چھلک جائیں گے خود ہی شبنم کے آنسو لبوں پہ جو بلبل کے فریاد ہوگی مرے بعد بھی چین پا نہ سکو گے تمہیں میری ہر اک ادا یاد ہوگی ذرا سوچ لے اے مٹا دینے والے مرے بعد پھر کس پہ بیداد ہوگی

مزید پڑھیے

اٹھا ہی لیتے ہیں دیوار و در سلیقے سے

اٹھا ہی لیتے ہیں دیوار و در سلیقے سے بنانے والے بناتے ہیں گھر سلیقے سے نظر میں رکھتے ہیں وہ زندگی شہادت کی کٹانے والے کٹاتے ہیں سر سلیقے سے سلیقہ مند ہے کتنی یہ گردش دوراں کہ آج اگتے ہیں شام و سحر سلیقے سے سنا ہے اشک ندامت کی ہے بڑی قیمت سجا لے پلکوں پہ تو یہ گہر سلیقے ...

مزید پڑھیے

چراغ درد جلاؤ کہ روشنی کم ہے

چراغ درد جلاؤ کہ روشنی کم ہے جنوں کی بزم سجاؤ کہ روشنی کم ہے نہ چھیڑو ذکر تعفن بھرے زمانے کا گلاب زخم کھلاؤ کہ روشنی کم ہے نہ جانے چھپ گئی منزل کہاں اندھیروں میں مرے قریب تر آؤ کہ روشنی کم ہے تمہارے شہر کی شاید ہے صبح شب پرور یہ کیا ہے ورنہ بتاؤ کہ روشنی کم ہے نہ بزم فکر ہے روشن ...

مزید پڑھیے

غافل نہ رہنا نبض کی رفتار دیکھنا

غافل نہ رہنا نبض کی رفتار دیکھنا سر پر لٹکتی وقت کی تلوار دیکھنا خالی ہیں دونوں ہاتھ ضرورت پہ ہے نظر دم توڑتے ہیں آج کے فن کار دیکھنا سب کھا رہے ہیں بیچ کے گہنے ضمیر کے ہیں لوگ کتنے آج کے نادار دیکھنا داڑھی بڑھی ہیں بال بڑھے کپڑے گیروے ہیں یہ جدید دور کے اوتار دیکھنا ہے سمت ...

مزید پڑھیے

آج

آج یہ آج کیا ہے کبھی تم نے سوچا بھی ہے آج یہ آج تاریخ ہے اپنی تہذیب کی اپنے انمول ماضی کی میراث ہے آج یہ آج کیا ہے کبھی تم نے سوچا بھی ہے آج یہ آج پیغام ہے اپنے مستقبل تابناک و ضیا‌ پاش کا اپنے فردا کی خوش رنگ تعبیر ہے آج یہ آج کیا ہے کبھی تم نے سوچا بھی ہے آج یہ آج صرف اک نہیں آج ...

مزید پڑھیے

پلٹ پلٹ کے میں اپنے پہ خود ہی وار کروں

پلٹ پلٹ کے میں اپنے پہ خود ہی وار کروں وہ میری زد میں کھڑا ہے میں کیا شکار کروں گھروں پہ خون چھڑکتی ہوا میں گزری ہیں عبادتوں کو گنوں یا گنہ شمار کروں دھوئیں کے پھول منڈیروں پہ روز کھلتے ہیں میں کیا رتوں کے تغیر پہ اعتبار کروں پرندے جب بھی بسیروں کو لوٹتے دیکھوں میں گھر میں ...

مزید پڑھیے

کس نے کہا منت کش مے خانہ ہوا ہوں

کس نے کہا منت کش مے خانہ ہوا ہوں اپنا ہی لہو پیتا ہوں دیوانہ ہوا ہوں ہر رات طلسمات کے قصوں کا ہوں کردار ہر روز الف لیلوی افسانہ ہوا ہوں اپنوں کے دلوں میں ہوں ہوں اوروں کی زباں پر دنیا کے لئے میں کہاں بیگانہ ہوا ہوں ٹھہرا ہوں گدا اک نگہہ وقت میں لیکن اپنے لئے تو عظمت شاہانہ ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1013 سے 6203