قومی زبان

جان لے گر تو جان لیتا ہے

جان لے گر تو جان لیتا ہے کیوں مرا امتحان لیتا ہے کیا بتاؤں میں اپنا حال دل جانتا ہوں تو جان لیتا ہے زخم ڈھلتے نہیں ہیں لفظوں میں کیوں مرا تو بیان لیتا ہے دیکھ ہمدردیوں کا مرہم رکھ سرخ آنکھیں کیوں تان لیتا ہے دل کو سہلا بھی تھپکیاں بھی دے دل تو بچہ ہے مان لیتا ہے آسماں کو زمیں ...

مزید پڑھیے

کوئی پوچھے تو اس دوانے سے

کوئی پوچھے تو اس دوانے سے عشق بڑھتا ہے آزمانے سے اس کی یادیں ہیں درد کا درماں درد بڑھتا ہے بھول جانے سے کوئی صورت نکال ملنے کی خواب ہی میں کسی بہانے سے تیری یادوں سے گھر چمکتا ہے روشنی ہے یہ دل جلانے سے دامن یار پر کہ آنکھوں میں کام اشکوں کو ہے ٹھکانے سے ہیں تمہارے نئے نئے ...

مزید پڑھیے

شمع وفا بجھی ہے نہ دل ہے بجھا ہوا

شمع وفا بجھی ہے نہ دل ہے بجھا ہوا تاریک کیسے پیار کا ہر راستہ ہوا روشن ہے داغ داغ تمنا کا آج بھی لیکن نگاہ گردش دوراں کو کیا ہوا اک ہم کہ آشنا رہے ہر اک سے پیار میں اک وہ کہ ہو کے آشنا نا آشنا ہوا دل کے جلے دیار پہ آنسو بہائے کون سب دیکھتے ہیں یہ کہ ہے چہرہ کھلا ہوا شاغلؔ ادیبؔ ...

مزید پڑھیے

وقار درد و غم زندگی نہیں معلوم

وقار درد و غم زندگی نہیں معلوم نہیں ہے آدمی کیوں آدمی نہیں معلوم سلوک دوست کا شکوہ نہیں مگر کب تک ہمیں ڈبوئے گی یہ سادگی نہیں معلوم تمام عمر رہے حادثہ شکار مگر رہی کیوں یاد تری چوٹ ہی نہیں معلوم غضب کہ پیار کی راہوں میں آج چل نکلے وہ جن کو نام وفا بھی ابھی نہیں معلوم چمن کھلا ...

مزید پڑھیے

سورج اب غم کا چھپا ہے شاید

سورج اب غم کا چھپا ہے شاید چاند خوشیوں کا اگا ہے شاید زندگی اوڑھ چکی تاریکی دل کوئی ڈوب رہا ہے شاید آنکھ اس کی بھی نظر آتی ہے نم کانٹا اس کے بھی چبھا ہے شاید راہی افسوس ہراساں ہیں سب قافلہ چھوٹ گیا ہے شاید نوحہ ہر لب پہ ہر اک جا گریہ کوئی دنیا سے اٹھا ہے شاید اس سے شاغلؔ ہیں ...

مزید پڑھیے

جسم خالی ہے جان ہے خالی

جسم خالی ہے جان ہے خالی زندگی کا مکان ہے خالی تارے امید کے نہیں کوئی آس کا آسمان ہے خالی پیاس ناکام لوٹ آئی ہے مے کی اک اک دکان ہے خالی دل پڑا رو رہا ہے کھائی میں عشرتوں کی چٹان ہے خالی بولتا میں بھی ہوں کہا کس نے میری اپنی زبان ہے خالی کون دے گا دلاسا اے شاغلؔ پیار تنہا جہان ...

مزید پڑھیے

بجھتے ہوئے شعلوں کو ہوا کیوں نہیں دیتے

بجھتے ہوئے شعلوں کو ہوا کیوں نہیں دیتے پھر آ کے ہمیں یار رلا کیوں نہیں دیتے یا روٹھ چلو مجھ سے تو یا ٹوٹ کے برسو ہر روز کا جھگڑا ہے چکا کیوں نہیں دیتے شاید کہ ملائک تری نصرت کو اتر آئیں فریاد سے پھر عرش ہلا کیوں نہیں دیتے ہر روز کا فاقہ ہے مشقت سے کٹے گا روتے ہوئے بچوں کو سلا ...

مزید پڑھیے

پانیوں سے ریت پر جو آ گیا میری طرح

پانیوں سے ریت پر جو آ گیا میری طرح زندگی کی دھوپ میں جلتا رہا میری طرح اس کے ہونٹوں سے بھی امرت کی مہک آنے لگی غالباً زہر ہلاہل پی لیا میری طرح آپ کو وہ اپنی رحمت سے نوازے گا ضرور صدق دل سے مانگیے بھی تو دعا میری طرح کوئی پردے سے نکل کر سامنے آ جائے گا شرط لیکن یہ ہے تم بھی ...

مزید پڑھیے

دشمنی لرزاں ہے یارو دوستی کے سامنے

دشمنی لرزاں ہے یارو دوستی کے سامنے تیرگی تھرا رہی ہے روشنی کے سامنے قافلے والوں سے یہ منظر نہ دیکھا جائے گا راہ بر ہیں سر بسجدہ گمرہی کے سامنے روح تو تاریکیوں میں غرق ہو کر رہ گئی جسم البتہ ہے اپنا روشنی کے سامنے اک نظر بس آپ میرے سامنے آ جائیے عمر بھر بیٹھا رہوں گا آپ ہی کے ...

مزید پڑھیے

ہم نہ جائیں گے رہنما کے قریب

ہم نہ جائیں گے رہنما کے قریب لوٹ لے گا ہمیں بلا کے قریب آب دیدہ ہے عشرت دنیا کس قدر غم ہیں بے نوا کے قریب اک پرندہ لپک کے پہنچا تھا پھر بھی پیاسا رہا گھٹا کے قریب ظرف دل آزما رہی ہے شراب جام رکھے ہیں پارسا کے قریب چشم پر نم وہ آج اٹھے ہیں کل جو بیٹھے تھے مسکرا کے قریب ان سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1015 سے 6203