جان لے گر تو جان لیتا ہے
جان لے گر تو جان لیتا ہے کیوں مرا امتحان لیتا ہے کیا بتاؤں میں اپنا حال دل جانتا ہوں تو جان لیتا ہے زخم ڈھلتے نہیں ہیں لفظوں میں کیوں مرا تو بیان لیتا ہے دیکھ ہمدردیوں کا مرہم رکھ سرخ آنکھیں کیوں تان لیتا ہے دل کو سہلا بھی تھپکیاں بھی دے دل تو بچہ ہے مان لیتا ہے آسماں کو زمیں ...