قومی زبان

کیا کہیں یارو کیا کیا ہم پر عشق خرابی لایا ہے

کیا کہیں یارو کیا کیا ہم پر عشق خرابی لایا ہے آنکھ سے لے کر دل تک جیسے اک دھندلکا چھایا ہے جیسے دھنک آکاش پہ نکلے بادل کے چھٹ جانے پر یوں ہی تیرے غم میں رو کر وقت سہانا آیا ہے میری بات نہ سننے والے پوچھ اس سے تو حال مرا آنسو ایک فسانہ بن کے پلکوں پر تھرایا ہے بیت گئی ہے دل پہ ...

مزید پڑھیے

میں کیا کروں کہ نہیں دل پہ اختیار مجھے

میں کیا کروں کہ نہیں دل پہ اختیار مجھے وگرنہ تیری محبت ہے ناگوار مجھے نہ دن کو چین نہ راتوں کو ہے قرار مجھے بس اب تو رہنے دے تنہا خیال یار مجھے لپٹ کے سو گئیں ساحل سے جب تھکی موجیں وہ یاد آئے سر شام بار بار مجھے میں تھک چلا ہوں غم زندگی کی راہوں میں کہاں ہے اے غم جاناں ذرا پکار ...

مزید پڑھیے

تا حد نظر چاندنی اس طرح کھلی ہے

تا حد نظر چاندنی اس طرح کھلی ہے جیسے ترے ہونٹوں کی ہنسی پھیل گئی ہے اتنی ہی نگاہوں کی مری پیاس بڑھی ہے جتنی کہ تجھے دیکھ کے تسکین ہوئی ہے کہنے کو تو خوابوں میں مری عمر کٹی ہے لیکن مرے خوابوں کی بہت عمر بڑی ہے زلفوں پہ رکوں یا ترے رخسار پہ ٹھہروں جس جا سے گزر کیجئے اک دھوم مچی ...

مزید پڑھیے

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

بولیں اماں محمد علیؔ کی جان بیٹا خلافت پہ دے دو ساتھ تیرے ہیں شوکتؔ علی بھی جان بیٹا خلافت پہ دے دو گر ذرا سست دیکھوں گی تم کو دودھ ہرگز نہ بخشوں گی تم کو میں دلاور نہ سمجھوں گی تم کو جان بیٹا خلافت پہ دے دو غیب سے میری امداد ہوگی اب حکومت یہ برباد ہوگی حشر تک اب نہ آباد ہوگی جان ...

مزید پڑھیے

اشکوں کو تیرے در پہ بہا کر چلے گئے

اشکوں کو تیرے در پہ بہا کر چلے گئے سپنے ہزار دل میں دبا کر چلے گئے یک طرفہ ہو کے رہ گئی چاہت وفا میری آنکھوں میں اشک اپنے چھپا کر چلے گئے ٹوٹا ہے بے رخی سے تری آج میرا دل چپکے سے زخم دل کا بڑھا کر چلے گئے ان کی نظر میں دل مرا انمول تھا کبھی پیروں تلے وہ دل کو دبا کر چلے گئے ان سے ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں میں مری جان لیے بیٹھی ہوں

اشک آنکھوں میں مری جان لیے بیٹھی ہوں لب پہ تیرے لیے مسکان لئے بیٹھی ہوں تم بھی میری طرح کچھ ٹھوس ارادہ کر لو میں نبھا دینے کے پیمان لیے بیٹھی ہوں جلد آ جاؤ خزاں آنے سے پہلے پہلے میں بہاروں کے کچھ احسان لیے بیٹھی ہوں ایک مدت سے تری رہ میں بچھی ہیں آنکھیں میں شب وصل کے ارمان لیے ...

مزید پڑھیے

ہاں محبت ہے میری آنکھوں میں

ہاں محبت ہے میری آنکھوں میں اک حقیقت ہے میری آنکھوں میں میری آنکھیں ہیں اس لیے سندر تیری صورت ہے میری آنکھوں میں میری آنکھوں کو غور سے دیکھو ایک حسرت ہے میری آنکھوں میں تم اسے اچھی طرح جانتے ہو جو شکایت ہے میری آنکھوں میں کیا شگفتہؔ میں دل کی بات کہوں دل کی حالت ہے میری ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہوں

تنہائی کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہوں آنکھوں کی قندیل جلائے پھرتی ہوں کون ہے جو دکھ درد کسی کا بانٹ سکے اپنے دل کے ساتھ لگائے پھرتی ہوں عشق میں تیرے ہرجائی اک مدت سے دیوانوں سا حال بنائے پھرتی ہوں تم نے تو کر گھر اپنا آباد لیا میں تو گھر کی آس لگائے پھرتی ہوں تم سورج تھے چھوڑ گئے ...

مزید پڑھیے

عین ممکن ہے کسی روز قیامت کر دیں

عین ممکن ہے کسی روز قیامت کر دیں کیا خبر ہم تجھے دیکھیں تو بغاوت کر دیں مونس غم ہے ہمارا سو کہاں ممکن ہے تجھ کو دیکھیں تو ترے ہجر کو رخصت کر دیں پیش گوئی کسی انجام کی جب ملتی نہیں زندگی کیسے تجھے وقف محبت کر دیں اس کو احساس ندامت ہے تو پھر لوٹ آئے شاید اس بار بھی ہم اس سے رعایت ...

مزید پڑھیے

زمانہ میری تباہی پہ جو اداس ہوا

زمانہ میری تباہی پہ جو اداس ہوا میں اپنے آپ سے اے دوست روشناس ہوا مرے خلوص کے پھولوں سے جو اڑی خوشبو تمہارے طنز کا موسم بھی بد حواس ہوا جمال صحن گلستاں ہمیں سے قائم ہے ہمارے خون سے ہر پھول خوش لباس ہوا اکیلا پیڑ ہی موسم کا وار سہتا رہا شکستہ برگ بھی کوئی نہ آس پاس ہوا کبھی جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1012 سے 6203