کیا کہیں یارو کیا کیا ہم پر عشق خرابی لایا ہے
کیا کہیں یارو کیا کیا ہم پر عشق خرابی لایا ہے آنکھ سے لے کر دل تک جیسے اک دھندلکا چھایا ہے جیسے دھنک آکاش پہ نکلے بادل کے چھٹ جانے پر یوں ہی تیرے غم میں رو کر وقت سہانا آیا ہے میری بات نہ سننے والے پوچھ اس سے تو حال مرا آنسو ایک فسانہ بن کے پلکوں پر تھرایا ہے بیت گئی ہے دل پہ ...