حدت شوق سے جلتے ہیں شراروں کے ہجوم
حدت شوق سے جلتے ہیں شراروں کے ہجوم آسماں سے اتر آئے ہیں ستاروں کے ہجوم غرق ہو جائیں سمندر میں کہیں سوچا تھا ہائے قسمت ہمیں ملتے ہیں کناروں کے ہجوم جان کو اپنی چھڑا لائیں ہیں ویرانوں میں شہر میں جان کو آتے ہیں سہاروں کے ہجوم کتنے پر کیف ہیں رنگین خزاں کے موسم جی جلاتے ہیں ...