شاعری

حدت شوق سے جلتے ہیں شراروں کے ہجوم

حدت شوق سے جلتے ہیں شراروں کے ہجوم آسماں سے اتر آئے ہیں ستاروں کے ہجوم غرق ہو جائیں سمندر میں کہیں سوچا تھا ہائے قسمت ہمیں ملتے ہیں کناروں کے ہجوم جان کو اپنی چھڑا لائیں ہیں ویرانوں میں شہر میں جان کو آتے ہیں سہاروں کے ہجوم کتنے پر کیف ہیں رنگین خزاں کے موسم جی جلاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

میرے ہاتھوں میں کچھ گلاب تو ہیں

میرے ہاتھوں میں کچھ گلاب تو ہیں جو نہ ممکن رہے وہ خواب تو ہیں رنگ بکھرے ہیں چار سو میرے ریگ زاروں میں کچھ سراب تو ہیں تیری چاہت کی آرزو نہ سہی ہم ترے سایۂ عتاب تو ہیں لفظ ڈھلنے لگے ہیں معنی میں زندگی سے ملے جواب تو ہیں روشنی سی رہی درختوں پر جنگلوں پر رہے شباب تو ہیں رات کے ...

مزید پڑھیے

بے سہارا نہ چھوڑ جاؤ ہمیں

بے سہارا نہ چھوڑ جاؤ ہمیں زندگی بھر نہ آزماؤ ہمیں ہم ہی کیوں ڈھونڈتے رہیں تم کو دشت امکاں سے ڈھونڈ لاؤ ہمیں وقت چپ چاپ بہہ نہ جائے کہیں وقت کی لے پہ گنگناؤ ہمیں شام سے دل میں اک اداسی ہے شام وعدہ نہ یاد آؤ ہمیں پھر بھلا کون یاد رکھتا ہے فی‌ زمانہ گلے لگاؤ ہمیں

مزید پڑھیے

نغمۂ جاں

پھر کوئی نغمۂ جاں چھیڑ کہ شب باقی ہے ان سنا گیت کوئی رقص گہہ انجم میں الجھے الجھے ہوئے بالوں سے الجھتا ہوا گیت مہکی مہکی ہوئی سانسوں میں سلگتا ہوا گیت پھر سجایا ہے ہتھیلی پہ ترے نام کا دیپ اور ہواؤں سے الجھتے ہیں سنبھل جاتے ہیں سلسلے خواب کے بد مست ہوا کے ساتھی دل میں اک جوت ...

مزید پڑھیے

آج لگتا ہے سمندر میں ہے طغیانی سی

آج لگتا ہے سمندر میں ہے طغیانی سی جانے کس دہر سے آیا ہے یہ طوفان بلا یہ جو طوفان کہ اس میں ہیں کھنڈر خوابوں کے ٹوٹتے خواب ہیں دھندلی سی گزر گاہوں کے ان کہی کوئی کہانی کوئی جلتا آنسو آ کے دامن پہ ٹھہرتا ہوا بے کل شکوہ چپ سی سادھی ہے مرے بت نے مگر آنکھوں میں میرے ہر تاج محل کی ہے ...

مزید پڑھیے

لکھے ہوئے الفاظ میں تاثیر نہیں ہے

لکھے ہوئے الفاظ میں تاثیر نہیں ہے دل پر جو کسی عشق کی تحریر نہیں ہے اس زیست کے ہر موڑ پہ لڑنی ہے مجھے جنگ قرطاس و قلم ہیں کوئی شمشیر نہیں ہے ممکن ہی نہیں تھا تجھے آواز لگاتے ہے عشق کی روداد پہ تشہیر نہیں ہے دنیا میں وفا ڈھونڈنے نکلے تھے ندارد اک بوجھ ہے دل پر مرے شہتیر نہیں ...

مزید پڑھیے

چھو کر ہوا پتا ترے اشکوں کا دے گئی

چھو کر ہوا پتا ترے اشکوں کا دے گئی دل کا قرار چین نگاہوں کا لے گئی بے خواب میری نیند کہ جس طرح شب ڈھلے اک شمع دل کا درد اکیلے سہے گئی موزوں ہوا نہ کوئی بھی دل میں خیال شوق دل میں جو آرزو کی چتا تھی جلے گئی ساحل پہ جس قدر بھی گھروندے تھے بہہ گئے دیوار جو وفاؤں کی ضامن تھی ڈھے ...

مزید پڑھیے

جلتا رہے چراغ ہواؤں پے بس نہیں

جلتا رہے چراغ ہواؤں پے بس نہیں ہے اہتمام شام کوئی ہم نفس نہیں رستے پکارتے ہیں ہمیں دور دور سے محصور ذات ہے کوئی دام قفس نہیں وہ مل رہا ہے غیر سے اتنے خلوص سے شکوہ کریں بھی کیا کہ وہ اہل ہوس نہیں جھلمل سی یاد پلکوں پے ٹھہری رہی مگر دل تھا جو بے قرار وہ اب کے برس نہیں بہتے ہیں موج ...

مزید پڑھیے

ایک عمر لگتی ہے آشیاں بنانے میں

ایک عمر لگتی ہے آشیاں بنانے میں اور پل نہیں لگتا بجلیاں گرانے میں پوچھتے ہو کیا مجھ سے کون سی ہے یہ منزل تیرگی سلگتی ہے اک دیا جلانے میں کون خواب دیکھے گا دوسری رفاقت کے زندگی بتا دی ہے تم کو بھول جانے میں شب گزیدہ شہزادی سج سنور کے آئیے جگنوؤں کے گہنے ہیں رات کے خزانے ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات ہے دعا کیجے

چاندنی رات ہے دعا کیجے ایک در روشنی کا وا کیجے ہم نے مانا کہ بے وفا ہے بہت زندگی سے مگر وفا کیجے گفتگو ایک مسئلہ ٹھہری اب اشاروں پہ اکتفا کیجے وہ سمجھتے نہیں ہماری بات کیا نہ کیجے حضور کیا کیجے منتظر آنکھ ڈھونڈھتی ہے تمہیں بام پر اک دیا دھرا کیجے پھر سکوں کی اداس تنہائی پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 862 سے 5858