آئنہ دیکھا تو صورت اپنی پہچانی گئی
آئنہ دیکھا تو صورت اپنی پہچانی گئی بھول ہی بیٹھے تھے خود کو عمر ارزانی گئی جانتے ہیں اس تلاطم خیز دریا کی ادا اک ہمارا نام سن کر موج سیلانی گئی اک چراغ دل بچا تھا اور سناٹے کی شب ضو فشاں تاروں کی مدھم خواب افشانی گئی کون ہے جو جی سکے گا معجزوں سے سانحے اس نگاہ شوق کی ہم پر ...