شاعری

روپ نگر کی شہزادی

خواب اک خواب میں جو دیکھا ہے ہے تخیل کہانیوں جیسا قصۂ حسن و عشق کی تمثیل کاکل شب جوانیوں جیسا گزرے وقتوں کی اک کویتا ہو خالی محلوں میں ڈھونڈھتی ہو کسے لے کے ہاتھوں میں پیار کی زنجیر خالی نظروں سے پوچھتی ہو کسے نیند میں سوچتی ہوئی آنکھیں جاگتے میں رہیں جو سوئی سی جانے کس سمت چل ...

مزید پڑھیے

وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو

وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو ہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دو میں ان سے کہہ دوں کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے وہ رنج ہستی کہ زہر بن کر مرے لہو میں سما چکا ہے مرے تصور میں بس چکا ہے وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو ہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دو میں رات دن کی ادھڑپن میں وہ کرچیاں بھی سمیٹ لوں گی جو میری ...

مزید پڑھیے

دیوار گریہ

ایک دیوار جو حائل ہے مری سوچوں میں کتنے پیچیدہ سوالوں سے مجھے روکتی ہے جب بھی میں رخت سفر باندھتی ہوں شانے پر اپنی جادو بھری ہستی سے مجھے ٹوکتی ہے یہ جو دیوار کہ رہتی ہے سیہ خانوں میں دن ڈھلے اپنے طلسمات کو دکھلاتی ہے مجھ کو محصور کیے رکھتی ہے انگاروں میں چار جانب رخ انوار سے ...

مزید پڑھیے

شہر آشوب

اے مرے دیس میں بستے ہوئے اچھے لوگو خود ہی سوچو کہ سزا جیسی یہ تنہائی ہے جس جگہ پھول مہکتے تھے وفاؤں کے کبھی ان فضاؤں میں اٹل رات کی گہرائی ہے ان اندھیروں سے پرے آج بھی اس دنیا میں لوگ خوش حال محبت سے رہا کرتے ہیں آج بھی شام ڈھلے سکھ کی حسیں وادی میں لوگ پیڑوں کے تلے روز ملا کرتے ...

مزید پڑھیے

کانچ کی گڑیا

کانچ نازک ہیں خواب نازک ہیں تم قدم سوچ کر ادھر رکھنا کھیلنے کا تجھے ہے شوق مگر ان چٹانوں پہ بھی نظر رکھنا تیرے دل میں ہے آرزو کی کرن تیری آنکھوں میں خواب ہیں کل کے تیرے ہاتھوں میں رنگ تتلی ہیں تیرے چہرے پہ عزم ہیں دہکے میرے آنگن کی کانچ کی گڑیا اپنی قسمت کا امتحان نہ لے میں تجھے ...

مزید پڑھیے

لفظ تو بانجھ ہیں

لفظ تو بانجھ ہیں جذبوں کی قدر کیا جانیں زندگی بار چکے ہوں تو قہر کیا جانیں اپنے معصوم گلابوں سے حسیں بچوں کی ایک کھوئی ہوئی مسکان پہ کچھ لکھنا ہے ان کی بے جان نگاہوں پہ مجھے کہنا ہے لفظ تو بانجھ ہیں قرطاس کے آئینے ہیں لفظ زیست کا عنوان ہیں سرمایہ ہیں پھر بھی جذبات کے عکاس نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

صدیوں کا تغافل

مجھ کو حیرت ہے تمہیں یاد نہ آئی میری دور جاتے ہوئے اک بار نہ مڑ کر دیکھا کتنی صدیوں کے تغافل نے دیا تھا اک پل کیسے ممکن ہے گزر جائے وہ آہٹ کے بنا دل نے اک بار بھی کیوں دی نہ دہائی میری بار تم کو نہ لگا مجھ سے جدا ہو جانا میں یہ سمجھی تھی کہ میں رہ نہ سکوں گی تجھ بن تجھ سے دوری کا تصور ...

مزید پڑھیے

ہار جیت

زندگی کے منظر میں ہار جیت کا منظر کس قدر اداسی کا اور بے نوائی کا ایک منتظر منظر ڈوب کر ارادوں میں ٹوٹ کر سرابوں میں دشت بے اماں منظر ہار جیت کا منظر آج اپنے شاعر سے پوچھ لیں تو اچھا ہے کیا گنوا کے پایا ہے اور کیا جو کھویا ہے اعتبار کا منظر ہار جیت کا منظر آج تم سے کھیلی ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

شام آ کر جھروکوں میں بیٹھی رہے

شام آ کر جھروکوں میں بیٹھی رہے ساعتوں میں سمندر پروتی رہے موسموں کے حوالے ترے نام سے دھوپ چھاؤں مرے دل میں ہوتی رہے جی نہ چاہا تری محفلوں سے اٹھوں بے بسی خالی نظروں سے تکتی رہے تم نے مانگا ہے احساس اس ڈھنگ سے پتھروں کی خموشی پگھلتی رہے یوں گزرتے رہیں یاد کے قافلے میری گلیوں ...

مزید پڑھیے

نہ توڑو زندگی رشتہ جہاں سے

نہ توڑو زندگی رشتہ جہاں سے ملے گا پھر کوئی ساتھی کہاں سے جفائیں ہوں کہ دکھ رکھ لو خوشی سے کہ بہتر ہیں یہ عمر رائیگاں سے بہاروں سے نہ اتنا دل لگاؤ کہ وحشت ہو چلے تم کو خزاں سے وہ منظر ریت کے ساحل میں گم ہیں یہی امید تھی آب رواں سے یہ آنکھیں غم سے بوجھل ہو چلی ہیں اتر آئے مسیحا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 861 سے 5858