شاعری

نیا جنم

اداسی کے آنگن میں محرومیوں کے گلابوں کی خوشبو مری سانس کے راستوں سے گزر کر گرم لاوے کی صورت رگوں میں بہی جا رہی ہے مجھے گھر کی دیوار و در میں امیدوں کی پرچھائیوں کا وہ نوحہ نظر آ رہا ہے جو صوت و صدا کی مقید فضا سے نکل کر مجسم ہوا جا رہا ہے رات کی سب سیاہی مری آنکھ سے مرے جسم و جاں ...

مزید پڑھیے

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا اچھی دیدار کی حسرت تھی کہ مرنے نہ دیا مدتوں کشمکش یاس و تمنا میں رہے غم نے جینے نہ دیا شوق نے مرنے نہ دیا نا خدا نے مجھے دلدل میں پھنسائے رکھا ڈوب مرنے نہ دیا پار اترنے نہ دیا

مزید پڑھیے

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا اچھی دیدار کی حسرت تھی کہ مرنے نہ دیا کیا قیامت ہے ستم گار بھری محفل میں دل چرا کر تری دزدیدہ نظر نے نہ دیا مدتوں کش مکش یاس و تمنا میں رہے غم نے جینے نہ دیا شوق نے مرنے نہ دیا ناخدا نے مجھے دلدل میں پھنسائے رکھا ڈوب مرنے نہ دیا پار اترنے نہ ...

مزید پڑھیے

موت آتی نہیں قرینے کی

موت آتی نہیں قرینے کی یہ سزا مل رہی ہے جینے کی مے سے پرہیز شیخ توبہ کرو اک یہی چیز تو ہے پینے کی تمہیں کہتا ہے آئنہ خودبیں باتیں سنتے ہو اس کمینے کی ہو گیا جب سے بے نقاب کوئی شمع روشن نہ پھر کسی نے کی چشم تر آبرو تو پیدا کر یوں نہیں بجھتی آگ سینے کی اہل دنیا سے کیا بدی کا گلا اے ...

مزید پڑھیے

کیسی وارفتگی سے دیکھے ہے

کیسی وارفتگی سے دیکھے ہے آدمی آدمی کو دیکھے ہے جاگ جائے ہے حسرت دیدار جب بھی کوئی کسی کو دیکھے ہے اتنا سادہ تو وہ نہیں لگتا جس قدر سادگی سے دیکھے ہے اس کو فرصت سے دیکھتی ہوں میں وہ جو کم فرصتی سے دیکھے ہے تیرے چہرے پہ کیا نظر جائے دل تری کج روی کو دیکھے ہے کیوں نہ جلووں کی دل ...

مزید پڑھیے

یہاں پہ جو ہے وہ مذہب شکار ہے ہاں ہے

یہاں پہ جو ہے وہ مذہب شکار ہے ہاں ہے خدا دلوں پہ دماغوں پہ بار ہے ہاں ہے تمام مفتی و واعظ خدا کو بیچتے ہیں تو کیا خدا بھی کوئی کاروبار ہے ہاں ہے ہر ایک چیز میں تم عیب دیکھتے ہو نہیں تمہارا لہجہ شکایت گزار ہے ہاں ہے سبھی کو خبط خود آرائی و نمائش ہے سبھی کے ذہن پہ عورت سوار ہے ہاں ...

مزید پڑھیے

سلگتی نیند کے گرداب سے نکل آیا

سلگتی نیند کے گرداب سے نکل آیا میں آج یعنی کسی خواب سے نکل آیا وہاں بھی کوئی نہیں تھا خراب حالوں کا میں ہو کے منبر و محراب سے نکل آیا عطائے شان کریمی عجیب ہوتی ہے کنارا خود ہی تہہ آب سے نکل آیا ہزار صدیوں پہ بھاری تھا ایک لمحۂ لمس وہ رات جب حد آداب سے نکل آیا وہ دیکھ موت کے ساحل ...

مزید پڑھیے

کون تھا جو گونگے لفظوں کو معانی دے گیا

کون تھا جو گونگے لفظوں کو معانی دے گیا برف کی جھیلوں کو انداز روانی دے گیا ایک جھونکا تھا مرے دل کے خراب آباد میں ننگی دیواروں کو تصویریں پرانی دے گیا داستانوں کا کوئی کردار ہے یہ زندگی جو بھی آیا وہ ہمیں تازہ کہانی دے گیا میں انا کے گنبد دل کش میں ٹھہرا بھی نہ تھا کوئی چپکے سے ...

مزید پڑھیے

رات کے وقت کوئی گیت سناتی ہے ہوا

رات کے وقت کوئی گیت سناتی ہے ہوا شاخ در شاخ بھلا کس کو بلاتی ہے ہوا سرد رات اپنی نہیں کٹتی کبھی تیرے بغیر ایسے موسم میں تو اور آگ لگاتی ہے ہوا ایک مانوس سی خوشبو سے مہکتی ہے فضا جب تو آتا ہے بہت شور مچاتی ہے ہوا کن گزر گاہوں کے ہیں گرد و غبار آنکھوں میں روز پت جھڑ کے ہمیں خواب ...

مزید پڑھیے

اپنے پرکھوں کی روایات سے ہٹتا ہوا میں

اپنے پرکھوں کی روایات سے ہٹتا ہوا میں زندگی تیرے سبھی رنگوں سے کٹتا ہوا میں حد ادراک سے آگے ہے رسائی لیکن اپنے اندر کسی مرکز پہ سمٹتا ہوا میں ہے محبت خس و خاشاک ملاقات کا نام آگ بن کے کسی پیکر سے لپٹتا ہوا میں کیسے لا یعنی ارادوں کی چبھن ہے مجھ میں کیسی آوازوں پہ ہر لمحہ پلٹتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 854 سے 5858