شاعری

کسی ٹرین کے نیچے وہ کٹ گیا ہوتا

کسی ٹرین کے نیچے وہ کٹ گیا ہوتا غبار راہ طلسمات چھٹ گیا ہوتا چلو یہ اچھا کہ چندن بدن سے دور رہے میں سانپ بن کے کمر سے لپٹ گیا ہوتا کسی کے ہجر میں اتنی گھٹن سے بہتر تھا ہوا میں صورت غبارہ پھٹ گیا ہوتا ہوا کہ ڈھیر سی اشیا سے بھر گیا دامن اے کاش ذرۂ نیکی بھی اٹ گیا ہوتا زبان آتی تو ...

مزید پڑھیے

فضائے نم میں صداؤں کا شور ہو جائے

فضائے نم میں صداؤں کا شور ہو جائے وہ مسکرا دے ذرا سا تو بھور ہو جائے کبھی جو اتروں میں رقص سخن کے صحرا میں تو اپنا حال بھی مانند مور ہو جائے وہ مے کدے سے بھی نکلے تو پاکباز رہے میں اس کی آنکھوں سے پی لوں تو شور ہو جائے نظر میں پھول ہو کاغذ پہ ایک صحرا ہو تو یوں غزل کا کوئی اور ...

مزید پڑھیے

وہ شخص بھی ہے عجیب و غریب ڈھونڈھتا ہے

وہ شخص بھی ہے عجیب و غریب ڈھونڈھتا ہے صف رقیب میں ہے اور رقیب ڈھونڈھتا ہے جھلس نہ دے کہیں اس کو بھی آتش مفہوم مری غزل میں وہ ذکر حبیب ڈھونڈھتا ہے اگرچہ ہو گیا بوڑھا وصال کا موسم وہ بوئے یار ابھی بھی قریب ڈھونڈھتا ہے وہ اپنے عہد کا صحرا نورد ہے لیکن شجر کو کاٹ کے اب عندلیب ...

مزید پڑھیے

سیال تصور ہے ابلنے کی طرح کا

سیال تصور ہے ابلنے کی طرح کا اک عکس سے سو عکس میں ڈھلنے کی طرح کا اب سانحۂ ہجر مسلسل کا مزہ بھی ہے آتش تخلیق میں جلنے کی طرح کا سب قید ہوا جاتا ہے تنگنائے غزل میں منظر پس منظر ہے بدلنے کی طرح کا اپنی ہی طرح کا ہے قدم راہ طلب میں گرنے کی طرح کا نہ سنبھلنے کی طرح کا سمجھو کہ قریب آ ...

مزید پڑھیے

لفظ و معنی کے سمندر کا سفر ہیں کچھ لوگ

لفظ و معنی کے سمندر کا سفر ہیں کچھ لوگ یار اس دور میں بھی اہل نظر ہیں کچھ لوگ یہ حقیقت ہے کہ بچوں کی ضرورت کے لیے صورت سلسلۂ گرد سفر ہیں کچھ لوگ ہم نے تو ان سے کبھی حق کے سوا کچھ نہ سنا جرم کیا ان کا ہے کیوں شہر بدر ہیں کچھ لوگ نور چہرے پہ تو باتوں میں مہک ہوتی ہے چاند کا عکس ہیں ...

مزید پڑھیے

غم دیے ہیں تو مسرت کے گہر بھی دینا

غم دیے ہیں تو مسرت کے گہر بھی دینا اے خدا تو مجھے جینے کا ہنر بھی دینا حاکم وقت یہ ہجرت مجھے منظور مگر دم رخصت مجھے سامان سفر بھی دینا اے شب و روز کے مالک مجھے اس دنیا میں لیلۃ القدر کی مانند سحر بھی دینا سن ذرا غور سے سن اے شجر سایہ فگن جب ترے سائے میں پہنچوں تو ثمر بھی ...

مزید پڑھیے

اردو

میں اردو ہوں مجھے غیروں سے کیا خطرہ کبھی دشمن سے ہوتا ہی نہیں خطرہ کسی کو بھی سبب تم بھی سمجھتے ہو کہ دشمن ہر گھڑی ہر پل مقابل ہی رہا کرتا ہے دشمن کے مقابل سے تو میدانوں میں اکثر جنگ ہوتی ہے نتیجہ جنگ کا تم بھی سمجھتے ہو محاذ جنگ پر خطر ہے نہیں ہوتا شکست و فتح ہوتی ہے تو پھر خطرہ ...

مزید پڑھیے

کبھی پا نہیں کبھی پر نہیں

کبھی پا نہیں کبھی پر نہیں رکا پھر بھی اپنا سفر نہیں مجھے منزلوں کی تلاش ہے مری راستوں پہ نظر نہیں مرے ساتھ اب تو چلا نہ کر مرے ساتھ تیرا سفر نہیں مٹا کب ہے کس نے مٹا دیا اسے یہ بھی دیکھو خبر نہیں جسے سن کے آئے سرور سا کسی بات میں وہ اثر نہیں مرے حوصلوں کی بھی داد دے تری محنتوں ...

مزید پڑھیے

میرا روزہ ہے

کوئی کام نہیں کرتے ہو سب کو ٹال دیا کرتے ہو نیٹ سے تم چپکے رہتے ہو ایس ایم ایس کرتے رہتے ہو اک روزے کا کر کے بہانہ سارا دن سوئے رہتے ہو اپنی ضد پر اڑ جاتے ہو ذرا سی بات پر لڑ پڑتے ہو دادی جان بلاتی ہیں تو ان کی بات نہیں سنتے ہو عصر میں تم کو نیند آتی ہے عشا میں تم غائب رہتے ہو جس دن ...

مزید پڑھیے

ہم مرتبہ نہ سمجھو رتبہ مرا تو جانو

ہم مرتبہ نہ سمجھو رتبہ مرا تو جانو شان زمن رہو تم مجھ کو گدا تو جانو یوں تو نکال دے گا صندل بدن کا کس بل بوسے کی کر دے خواہش پوری موا تو جانو اب سے بھی سیکھ لو تم پاؤں زمیں پہ دھرنا کاغذ قلم اٹھایا تم پر لکھا تو جانو شیشے پہ پا برہنہ چلنا نہیں ہے آساں کرچیں چبھیں تو جانو تلوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 839 سے 5858