شاعری

جو ہو سکے تو کبھی قید جسم و جاں سے نکل

جو ہو سکے تو کبھی قید جسم و جاں سے نکل یہاں سے میں بھی نکلتا ہوں تو وہاں سے نکل ادھر ادھر سے نکلنا بہت ہی مشکل ہے بڑھے گی بھیڑ ابھی اور درمیاں سے نکل زمیں بھی تیری ہے مالک غلام بھی تیرے کبھی تو میرے خدا اپنے آسماں سے نکل ازل سے دشت جنوں تیرے انتظار میں ہے قبائے آگہی اب پھینک دے ...

مزید پڑھیے

شرمیلی چھوئی موئی عجب موہنی سی تھی

شرمیلی چھوئی موئی عجب موہنی سی تھی ندی یہ گاؤں میں تھی تو کتنی بھلی سی تھی صحرا بھی تھا اداس سمندر بھی تھا خموش لیکن وہی جنوں وہی دیوانگی سی تھی پانی کے انتظار میں خالی گھڑے کے پاس کچھ شوخ شوخ رنگ تھے کچھ دل کشی سی تھی سوکھی ہوئی ندی کو سمندر کی تھی تلاش اس خواہش فضول میں کیا ...

مزید پڑھیے

مرے ہاتھ کی سب دعا لے گیا

مرے ہاتھ کی سب دعا لے گیا وہ کیا لینے آیا تھا کیا لے گیا فقط رو رہا ہوں کسے یاد ہے کوئی چھین کر مجھ سے کیا لے گیا کہ جب شہر میں کچھ نہ باقی بچا سمندر مجھے بھی بلا لے گیا اگر کھو گئی کوئی شے بھی تو کیا بچا کر وہ اپنی انا لے گیا شمیمؔ اس کے جانے کا کچھ غم نہیں مگر بیچ کا راستہ لے ...

مزید پڑھیے

بہت گھٹن ہے بہت اضطراب ہے مولا

بہت گھٹن ہے بہت اضطراب ہے مولا ہمارے سر پہ یہ کیسا عذاب ہے مولا سنا تھا میں نے یہی دن ہیں پھول کھلنے کے مرے لیے تو یہ موسم خراب ہے مولا کوئی بتائے ہماری سمجھ سے باہر ہے کسے گناہ کہیں کیا ثواب ہے مولا ازل سے تیری زمیں پر کھڑے ہیں تیرے غلام سروں پہ ان کے وہی آفتاب ہے مولا گناہ ...

مزید پڑھیے

آسماں کا رنگ میری ذات میں گھل جائے گا

آسماں کا رنگ میری ذات میں گھل جائے گا دیکھنا اک دن غبار جسم بھی دھل جائے گا ایک اک کر کے پرندے اڑ رہے ہیں شاخ سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے موسم گل جائے گا خوف کی دیوی کو آخر مل گیا اس کا پتہ اس کے شعروں سے بھی اب رنگ تغزل جائے گا درد کے جھونکوں سے بچنا اب کہاں ممکن شمیمؔ بند ہوگا ایک ...

مزید پڑھیے

دیوار کی صورت تھا کبھی در کی طرح تھا

دیوار کی صورت تھا کبھی در کی طرح تھا وہ دھند میں لپٹے ہوئے منظر کی طرح تھا دیکھا تو شگفتہ سا لگا پھول کی صورت اترا تو مری روح میں خنجر کی طرح تھا میں آج تہی دست ہوں اک خاص سبب سے ورنہ میں زمانے میں سکندر کی طرح تھا کچھ وقت نے ترتیب بگاڑی مرے گھر کی کچھ گھر بھی مرا میرے مقدر کی ...

مزید پڑھیے

زمیں کو کھینچ کے میں سوئے آسماں لے جاؤں

زمیں کو کھینچ کے میں سوئے آسماں لے جاؤں یہ دل کا درد ہے اس درد کو کہاں لے جاؤں یہ دل عجیب سی اک کشمکش سے ہے دو چار نتیجہ ایک سا ہوگا اسے جہاں لے جاؤں یہاں تو گل بھی سماتے نہیں ان آنکھوں میں بتا کہاں میں یہ چہرہ دھواں دھواں لے جاؤں لکھا تو ہے مری بے خواب سی ان آنکھوں میں میں اپنے ...

مزید پڑھیے

دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو

دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو ڈس نہ لے ہم کو کہیں یہ خامشی باتیں کرو آؤ پلکوں سے چنیں بکھرے ہوئے لمحات کو نیند آ جائے نہ جب تک خواب کی باتیں کرو بس یہی لمحے غنیمت ہیں کہ ہم تم ساتھ ہیں کون جانے مل بھی پائیں پھر کبھی باتیں کرو صرف اک کرب مسلسل ہی نہیں ہے زندگی مختصر وقفے ...

مزید پڑھیے

ستارہ ٹوٹ کے بکھرا اور اک جہان کھلا

ستارہ ٹوٹ کے بکھرا اور اک جہان کھلا عجیب رخ سے اندھیرے میں آسمان کھلا طلوع صبح سے پہلے میں چھوڑ جاؤں گا سیاہ رات کے پہلو میں اک مکان کھلا پھر اس کے بعد کوئی راہ واپسی کی نہ تھی ہوا کے دوش پہ اس طرح بادبان کھلا میں جس کو ڈھونڈ رہا تھا اداس راتوں میں ستارہ بن کے وہ پلکوں کے درمیان ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ ستارہ سا مچلنے کے لیے تھا

پلکوں پہ ستارہ سا مچلنے کے لیے تھا وہ شخص ان آنکھوں میں پگھلنے کے لیے تھا وہ زلف ہواؤں میں بکھرنے کے لیے تھی اور جسم مرا دھوپ میں جلنے کے لیے تھا جس روز تراشے گئے یہ زخم اسی روز اک زخم مری روح میں پلنے کے لیے تھا اس خواب کی تعبیر مجھے ملتی بھی کیسے وہ خواب تو افسانوں میں ڈھلنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 829 سے 5858