جو ہو سکے تو کبھی قید جسم و جاں سے نکل
جو ہو سکے تو کبھی قید جسم و جاں سے نکل یہاں سے میں بھی نکلتا ہوں تو وہاں سے نکل ادھر ادھر سے نکلنا بہت ہی مشکل ہے بڑھے گی بھیڑ ابھی اور درمیاں سے نکل زمیں بھی تیری ہے مالک غلام بھی تیرے کبھی تو میرے خدا اپنے آسماں سے نکل ازل سے دشت جنوں تیرے انتظار میں ہے قبائے آگہی اب پھینک دے ...