شاعری

خرد کی راہ سے دیوانگی تک بات کیوں پہنچے

خرد کی راہ سے دیوانگی تک بات کیوں پہنچے شعور غم کی آشفتہ سری تک بات کیوں پہنچے وقار عشق کی غم یا خوشی تک بات کیوں پہنچے ہزاروں اور بھی دل ہیں اسی تک بات کیوں پہنچے اگر دامن بچے رہبر کی الجھن سے تو اچھا ہے خراب جستجو کی گمرہی تک بات کیوں پہنچے نگاہ دل کے پرتو سے کریں شام و سحر ...

مزید پڑھیے

حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے

حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے تری محفل سے بڑھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے حقیقت سے گزر کر آئنہ خانے کہاں جاتے اگر ہم تک نہیں آتے تو پیمانے کہاں جاتے غم دوراں نے بڑھ کر لو بڑھا دی شمع ہستی کی غم جاناں کے یہ بھٹکے ہوئے جانے کہاں جاتے نگاہیں تھیں ہماری فرق خاص و عام سے آگے اگر ...

مزید پڑھیے

ذوق سجدہ ایک نقش کامراں بنتا گیا

ذوق سجدہ ایک نقش کامراں بنتا گیا آستاں پر ان کے میرا آستاں بنتا گیا بے نشانی کے سہارے پر نشاں بنتا گیا ضامن منزل غبار کارواں بنتا گیا قدرتاً بربادیوں کی داستاں بنتا گیا خود بخود بجلی کی زد میں آشیاں بنتا گیا کیا خطا صیاد کی اور باغباں کا کیا قصور گلستاں میں خود تو ننگ گلستاں ...

مزید پڑھیے

کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے

کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے دامن میں اپنے میرا گریباں لئے ہوئے ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لئے ہوئے شام خزاں ہے صبح بہاراں لئے ہوئے سجدہ ہے میرا ذوق فراواں لئے ہوئے اٹھے گا اب تو سر در جاناں لئے ہوئے بعد رہائی بھی نہ میں زنداں سے جاؤں گا بیٹھا رہوں گا عزت زنداں لئے ہوئے اب ...

مزید پڑھیے

غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا

غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا درد نہاں کو چارۂ درد نہاں بنا امید و یاس جس میں نہ ہوں وہ جہاں بنا یعنی نئی زمیں نیا آسماں بنا اور آرزوئے سیر چمن کو بہار میں اور اے اسیر کنج قفس آشیاں بنا مشق وفا میں کیا کہوں یہ غم نصیب دل کن مشکلوں سے خوگر ضبط فغاں بنا وہم و خیال پر بھی ...

مزید پڑھیے

ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے

ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے اے شفاؔ منزل کدھر تھی اور کدھر سمجھا کئے وائے یہ کوتاہیٔ احساس و تنگیٔ نظر زندگی کو زندگی بھر مختصر سمجھا کئے کارواں پہنچے قریب سعیٔ انجام سفر اور ہم مفہوم آغاز سفر سمجھا کئے بے خودی نے کس قدر گمراہ رکھا عشق کو ہم تصور ہی کو حسن معتبر سمجھا ...

مزید پڑھیے

گلشن بہ دوش نظریں لب پر حسیں ترانہ

گلشن بہ دوش نظریں لب پر حسیں ترانہ ہر اک ادا ہے ان کی الفت کا اک فسانہ دیوانہ ساز گیسو انداز والہانہ ایمان لوٹتا ہے یہ رنگ کافرانہ مہکے ہوئے لبوں پر بہکا سا یہ تبسم پھولوں سے ڈھل رہا ہو جیسے شراب خانہ اب تک نگاہ میں ہے پہلی نگاہ ان کی ہنستی رہی محبت لٹتا رہا زمانہ تاروں کی بزم ...

مزید پڑھیے

دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے

دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے وہ نہاں ہی کب ہیں ناداں جو عیاں ہو جائیں گے کیا خبر تھی راز ہائے دل زباں ہو جائیں گے میرے دو آنسو بھی میری داستاں ہو جائیں گے جان کھو کر غم میں جان داستاں ہو جائیں گے یہ نشانی چھوڑ کر ہم بے نشاں ہو جائیں گے آسمان حشر حشر آسماں ہو جائیں گے جب ...

مزید پڑھیے

توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے

توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے موت سے کرکے بغاوت زندگی تک آ گئے اپنی منزل آپ ہی خود آ رہے ہیں اب نظر ہو نہ ہو ہم آج اپنی روشنی تک آ گئے اے غم عالم تری اس دل نوازی کے نثار تیرے نزدیک آ کے جیسے ہر خوشی تک آ گئے کیوں فضاؤں میں نظر آتے ہیں جلوؤں کے غبار کیا مہ و خورشید گرد آدمی ...

مزید پڑھیے

یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو

یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو اپنے ہاتھوں سے مرا چاک گریباں کر دو بات تو جب ہے کہ بیگانۂ درماں کر دو اب پریشاں ہی کیا ہے تو پریشاں کر دو نشتر نیم نگاہی کی قسم ہے تم کو دل کے ہر زخم کو تصویر گلستاں کر دو تم سما جاؤ مری روح میں نغمہ بن کر آؤ ساز دل غمگیں کو غزل خواں کر دو یا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 752 سے 5858