شاعری

آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے

آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے جان کشتی قضا سے لڑتی ہے شعلہ بھڑکے نہ کیوں کہ محفل میں شمع تجھ بن ہوا سے لڑتی ہے قسمت اس بت سے جا لڑی اپنی دیکھو احمق خدا سے لڑتی ہے شور قلقل یہ کیوں ہے دختر رز کیا کسی پارسا سے لڑتی ہے نہیں مژگاں کی دو صفیں گویا اک بلا اک بلا سے لڑتی ہے نگۂ ناز اس کی ...

مزید پڑھیے

اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے

اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے لیکن بلا سے یار کے زانو پہ سر تو ہے آنا ہے ان کا آنا قیامت کا دیکھیے کب آئیں لیکن آنے کی ان کے خبر تو ہے ہے سر شہید عشق کا زیب سنان یار صد شکر بارے نخل وفا بارور تو ہے مانند شمع گریہ ہے کیا شغل طرفہ تر ہو جاتی رات اس میں بلا سے بسر تو ہے ہے درد دل ...

مزید پڑھیے

آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی

آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی رہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائی مجنوں و کوہ کن کے سنتے تھے یار قصے جب تک کہانی ہم نے اپنی نہ تھی سنائی شکوہ کیا جو ہم نے گالی کا آج اس سے شکوے کے ساتھ اس نے اک اور بھی سنائی کچھ کہہ رہا ہے ناصح کیا جانے کیا کہے گا دیتا نہیں مجھے تو اے بے ...

مزید پڑھیے

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا ہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر جو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالا لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے لینے کو خبر اس کی اجل جائے تو ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے کیا حقیقی ہے کیا مجازی ہے دختر رز نکل کے مینا سے کرتی کیا کیا زباں درازی ہے خط کو کیا دیکھتے ہو آئنے میں حسن کی یہ ادا طرازی ہے ہندوئے چشم طاق ابرو میں کیا بنا آن کر نمازی ہے نذر دیں نفس کش کو دنیا دار واہ کیا تیری بے نیازی ہے بت طناز ہم سے ہو ...

مزید پڑھیے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم پہلے جب تک نہ دو ...

مزید پڑھیے

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے لگایا جی کو ناحق غم ابھی سے دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سے جتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے ترے بیمار غم کے ہیں جو غم خوار برستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے غضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاں صف عشاق ہے برہم ابھی سے اگرچہ دیر ہے جانے میں تیرے نہیں پر اپنے دم میں ...

مزید پڑھیے

اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے

اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے وہ اپنی جانماز ہے اور یہ نماز ہے ناساز ہے جو ہم سے اسی سے یہ ساز ہے کیا خوب دل ہے واہ ہمیں جس پہ ناز ہے پہنچا ہے شب کمند لگا کر وہاں رقیب سچ ہے حرام زادے کی رسی دراز ہے اس بت پہ گر خدا بھی ہو عاشق تو آئے رشک ہرچند جانتا ہوں کہ وہ پاکباز ہے مداح خال ...

مزید پڑھیے

کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد

کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد سینے میں ہوگی سانس اڑی دو گھڑی کے بعد to what avail is if you come after such a wait my breath belabours in my breast, it may be too late کیا روکا اپنے گریے کو ہم نے کہ لگ گئی پھر وہ ہی آنسوؤں کی جھڑی دو گھڑی کے بعد how the river of my tears I managed to restrain the cataract, soon afterwards, was flowing again کوئی گھڑی اگر وہ ...

مزید پڑھیے

گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں

گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں بشر کے ہیں جو مبصر بشر کو دیکھتے ہیں نہ خوب و زشت نہ عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں یہ چیز کیا ہے بشر ہم بشر کو دیکھتے ہیں وہ دیکھیں بزم میں پہلے کدھر کو دیکھتے ہیں محبت آج ترے ہم اثر کو دیکھتے ہیں وہ اپنی برش تیغ نظر کو دیکھتے ہیں ہم ان کو دیکھتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 751 سے 5858