شاعری

لٹ گئے اہل غم جل گئے آشیاں برق کا تلملانا غضب ہو گیا

لٹ گئے اہل غم جل گئے آشیاں برق کا تلملانا غضب ہو گیا جن کے آنے کی مانگی تھی برسوں دعا ان بہاروں کا آنا غضب ہو گیا فکر ہستی گئی فکر دنیا گئی آسماں کے گلے غم کی بپتا گئی ہو گئے گل سبھی جگمگاتے دیے شمع الفت جلانا غضب ہو گیا آنکھ پر آب مغموم ہے زندگی دل ہے بیتاب آنکھوں سے نیند اڑ ...

مزید پڑھیے

ذہن ہر سو نگاہ کرتا ہے

ذہن ہر سو نگاہ کرتا ہے دل فقط ان کی چاہ کرتا ہے حق وہ رکھتا ہے روٹھنے کا بھی پیار جو بے پناہ کرتا ہے جو کن انکھیوں سے دیکھتا ہے اسے باسلیقہ گناہ کرتا ہے فقر بھی اس کا ہے شہنشاہی دل کو جو خانقاہ کرتا ہے دل ثبوت بقائے ہستی میں دھڑکنوں کو گواہ کرتا ہے قبل منزل چراغ راہ گزر خوف کو ...

مزید پڑھیے

وہی ہیں کوئی صورت ان میں بیگانی نہیں ملتی

وہی ہیں کوئی صورت ان میں بیگانی نہیں ملتی وہ چہرے آہ جن چہروں پہ تابانی نہیں ملتی عجب دنیا ہے اس میں خوئے انسانی نہیں ملتی کہ سیدھے منہ کسی سے بھی یہ دیوانی نہیں ملتی لٹایا جس نے ہستی کو زمانے کے تبسم پر اسی دل کے لئے اشکوں کی قربانی نہیں ملتی کبھی طغیانیٔ پیہم ہو تو آنسو نہیں ...

مزید پڑھیے

بگڑی ہوئی جو بزم سخن تھی سنبھل گئی

بگڑی ہوئی جو بزم سخن تھی سنبھل گئی کیا بات تھی جو میری زباں سے نکل گئی کیوں ہو گئی ہیں دونوں کی راہیں الگ الگ میں وہ نہیں رہا کہ یہ دنیا بدل گئی وعدہ وہ اپنے آنے کا پورا نہ کر سکا شاید شب فراق کوئی چال چل گئی یہ میری تربیت کا کرشمہ نہ ہو کوئی اولاد میری مجھ سے بھی آگے نکل ...

مزید پڑھیے

بس دیکھ رہا ہوں مرا پیمانہ کہاں ہے

بس دیکھ رہا ہوں مرا پیمانہ کہاں ہے اللہ مری جرأت رندانہ کہاں ہے پڑ جائیں نہ اس پر غم دنیا کی نگاہیں اے بھولنے والے مرا افسانہ کہاں ہے اب مجھ کو دکھائے نہ خدا ہوش کا عالم وہ پوچھ رہے ہیں مرا دیوانہ کہاں ہے مجھ رند الستی کو کہاں ہوش کہ دیکھوں کعبہ ہے کدھر اور صنم خانہ کہاں ...

مزید پڑھیے

مسائل ہیں جو لا ینحل بہت آسان بن جاتے

مسائل ہیں جو لا ینحل بہت آسان بن جاتے جو شیخ و برہمن کچھ دیر کو انسان بن جاتے نفس کی آمد و شد شعر ہم دیوان بن جاتے بہ نظم زندگانی تم اگر عنوان بن جاتے مسیحائے زماں بننا بھی کوئی امر مشکل تھا جو تم کر لیتے میرے درد کی پہچان بن جاتے بیاں کرتے صفات اپنی جو بام خود نمائی سے تو ہم چرخ ...

مزید پڑھیے

قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے

قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے کیوں کر ادا ہو عمر کا رشتہ قلیل ہے گنجائش دو شاہ نہیں ایک ملک میں وحدانیت کے حق کی یہی بس دلیل ہے مشہد پہ دل کے دیدۂ گریاں پکار دے پیاسا نہ جا بنام شہیداں سبیل ہے نظریں لڑانے میں وہ تغافل ہے خوش نما جس طرح سے پتنگوں کے پنجوں میں ڈھیل ہے ایمانؔ کیا ...

مزید پڑھیے

کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا

کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا ایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گا جوں چاہیئے ووں دل کی نکالوں گا ہوس میں جس دن وہ مجھے کیف میں سرشار ملے گا اک عمر سے پھرتا ہوں لیے دل کو بغل میں اس جنس کا بھی کوئی خریدار ملے گا مل جائے گا پھر آپ سے یہ زخم جگر بھی جس روز کہ مجھ سے وہ ستم گار ملے ...

مزید پڑھیے

مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم

مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم پھر بھلا دل کے نکالیں کس طرح ارمان ہم ہر قدم پر جس کے اعجاز مسیحائی فدا اس ادا اس ناز اس رفتار کے قربان ہم عمر بھر ساقی نہ چھوڑی مے کدہ کی بندگی ایک ہی پیمانے پر کرتے ہیں یہ پیمان ہم کوئی تو دعوت بتا دو اس طرح کی شیخ جی ایک شب تو اپنے گھر اس کو ...

مزید پڑھیے

پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے

پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے جنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھے آنا اگر ترا نہیں ہوتا ہے میرے گھر دولت سرا میں اپنے ہی اک دن بلا مجھے وہ ہووے اور میں ہوں اور اک کنج عافیت اس سے زیادہ چاہیے پھر اور کیا مجھے پیدا کیا ہے جب سے کہ میں ربط عشق سے بیگانہ جانتا ہے ہر ایک آشنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 718 سے 5858