جب رقیبوں کا ستم یاد آیا
جب رقیبوں کا ستم یاد آیا کچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا کب ہمیں حاجت پرہیز پڑی غم نہ کھایا تھا کہ سم یاد آیا نہ لکھا خط کہ خط پیشانی مجھ کو ہنگام رقم یاد آیا شعلۂ زخم سے اے صید فگن داغ آہوئے حرم یاد آیا ٹھہرے کیا دل کہ تری شوخی سے اضطراب پئے ہم یاد آیا خوبئ بخت کہ پیمان عدو اس کو ...