شاعری

جب رقیبوں کا ستم یاد آیا

جب رقیبوں کا ستم یاد آیا کچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا کب ہمیں حاجت پرہیز پڑی غم نہ کھایا تھا کہ سم یاد آیا نہ لکھا خط کہ خط پیشانی مجھ کو ہنگام رقم یاد آیا شعلۂ زخم سے اے صید فگن داغ آہوئے حرم یاد آیا ٹھہرے کیا دل کہ تری شوخی سے اضطراب پئے ہم یاد آیا خوبئ بخت کہ پیمان عدو اس کو ...

مزید پڑھیے

محو ہوں میں جو اس ستم گر کا

محو ہوں میں جو اس ستم گر کا ہے گلہ اپنے حال ابتر کا حال لکھتا ہوں جان مضطر کا رگ بسمل ہے تار مسطر کا آنکھ پھرنے سے تیری مجھ کو ہوا گردش دہر دور ساغر کا شعلہ رو یار شعلہ رنگ شراب کام یاں کیا ہے دامن تر کا شوق کو آج بے قراری ہے اور وعدہ ہے روز محشر کا نقش تسخیر غیر کو اس نے خوں لیا ...

مزید پڑھیے

روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں

روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں ایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں every day, some in your street are slain my love, a furor now infests your lane فرش رہ ہیں جو دل افگار ترے کوچے میں خاک ہو رونق گلزار ترے کوچے میں with bloodied hearts your street is littered now your street can never have the garden's glow سرفروش آتے ہیں اے یار ترے کوچے میں گرم ہے ...

مزید پڑھیے

گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہم

گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہم مدت سے اسی طرح نبھی جاتی ہے باہم at times I am cross with her, at times she with me for ages we have managed in this manner mutually کرتے ہیں غلط یار سے اظہار وفا ہم ثابت جو ہوا عشق کجا یار کجا ہم it is wrong of me to tell her of my loyalty where is she and where am I, if love it proves to be کچھ نشۂ مے سے نہیں کم نشۂ نخوت تقویٰ ...

مزید پڑھیے

ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہو

ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہو یا ہم نہ ہوں جہاں میں خدا یا جہاں نہ ہو آئین اہل عشق کہاں اور ہم کہاں اے آہ شعلہ بار نہ ہو خوں چکاں نہ ہو فعل حکیم عین صلاح و صواب ہے ساقی اگر شراب نہ دے سرگراں نہ ہو تدبیر ترک دشمن جاں کی ہے رات دن کس طرح پھر مجھے گلۂ دوستاں نہ ہو کیا وہ متاع جس کی ...

مزید پڑھیے

حق نوا جرأت اظہار تک آ پہنچے ہیں

حق نوا جرأت اظہار تک آ پہنچے ہیں حوصلے اب رسن و دار تک آ پہنچے ہیں شیخ صاحب بھی ہیں ساقی ترے میخانے میں تیری جنت میں گنہ گار تک آ پہنچے ہیں درد دل کا مرے افسانہ ہیں وہ دو آنسو جو ترے پھول سے رخسار تک آ پہنچے ہیں ان بیانوں سے مرا کوئی تعلق ہی نہیں جو مرے نام سے اخبار تک آ پہنچے ...

مزید پڑھیے

تیری وفا پر شک ہے مجھ کو بات نہ کر بے لاگ ہوا

تیری وفا پر شک ہے مجھ کو بات نہ کر بے لاگ ہوا ان کی خوشبو لے کے نہ آئی بھاگ یہاں سے بھاگ ہوا دیتے ہیں نفرت کا اجالا نفرت کے ناپاک دیے کیوں نہ بجھائے تو نے اب تک وقت اذاں ہے جاگ ہوا چھپر کچھ باقی ہیں اب بھی ناداروں کی قسمت سے شعلوں نے جب تیاگ دیا ہے تو بھی ان کو تیاگ ہوا قسمت میں جل ...

مزید پڑھیے

اپنوں ہی پہ ہوتی ہے ہر مشق جفا پہلے

اپنوں ہی پہ ہوتی ہے ہر مشق جفا پہلے کی چاک بہاروں نے پھولوں کی قبا پہلے اس کے لئے اٹھے تھے گو دست دعا پہلے بیمار کی قسمت سے آ پہنچی قضا پہلے اب ان کی جفاؤں کا کیوں دہر سے شکوہ ہے ڈالی تھی ہمیں نے تو بنیاد وفا پہلے محسوس یہ ہوتا ہے جیسے کبھی دیکھا ہو اے دوست مگر تجھ کو دیکھا تو نہ ...

مزید پڑھیے

اب گھٹائیں چاہئیں ساقی نہ پیمانہ مجھے

اب گھٹائیں چاہئیں ساقی نہ پیمانہ مجھے اس کے غم نے کر دیا ہر غم سے بیگانہ مجھے ختم کر دینا ہے اب وحشت کا افسانہ مجھے کہہ گئے اپنی زباں سے وہ بھی دیوانہ مجھے نحن اقرب کی صدا دیتی ہے خود منزل مری اب نہ کعبہ راہ میں روکے نہ بت خانہ مجھے دل میں جب شمع حقیقت شعلہ رو ہو جائے گی خود جلا ...

مزید پڑھیے

کسی کے پیکر روپوش پر نظر ہے ابھی

کسی کے پیکر روپوش پر نظر ہے ابھی تو دور مجھ سے در اندازیٔ سحر ہے ابھی یہ جان کر بھی کہ مجھ پر نظر نظر ہے ابھی مرا شعور برائی سے بے خبر ہے ابھی لگے ہیں بغض کے شیشے جہاں جبینوں میں وہاں اداس محبت کا سنگ در ہے ابھی اسی کو لوگ سمیٹیں گے داستانوں میں مرے لبوں پہ جو روداد مختصر ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 717 سے 5858