شاعری

یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا

یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا قیمت میں جس کی پھر وہی شاہی کا تخت تھا مجلس میں تیری کاوش مژگاں کے ہاتھ سے غنچہ نمط ہر ایک جگر لخت لخت تھا آنسو تو چیر کر صف مژگاں نکل گیا لڑکا تھا خورد سال پہ دل کا کرخت تھا تجھ پہ گداز دل ہے سراپا اے شمع رو جوں نخل موم باغ میں ہر اک درخت ...

مزید پڑھیے

دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے

دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے ہم نے دیکھا ہے تو اے شوخ جہاں رہتا ہے کوئی دن گھر سے نہ نکلے ہے اگر وہ خورشید منتظر شام تلک ایک جہاں رہتا ہے جھاڑ دامن کے تئیں مار کے ٹھوکر نکلے کہیں روکے سے بھی وہ سرو رواں رہتا ہے گاہے ماہے اے مہ عید ادھر بھی تو گزر روز و شب بزم میں تیرا ہی ...

مزید پڑھیے

دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم

دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم وہ تیری یاد ترے انتظار کا موسم جھکی ہے آنکھ کئی رت جگے سمیٹے ہوئے چھپا ہے لمس میں کیسا خمار کا موسم ہمارے پیار نے عمر دوام مانگی ہے ہمیں قبول نہیں تھا ادھار کا موسم فراق لمحوں کو ہم نے حسیں بنایا ہے سجا کے دل میں ترے اعتبار کا موسم ملی نگاہ تو اک ...

مزید پڑھیے

ترے خیال کو بھی فرصت خیال نہیں

ترے خیال کو بھی فرصت خیال نہیں جدائی ہجر نہیں ہے ملن وصال نہیں مرے وجود میں ایسا سما گیا کوئی غم زمانہ نہیں فکر ماہ و سال نہیں اسے یقین کے سورج سے ہی ابھرنا ہے وہ سیل وہم میں بہتا ہوا جمال نہیں دہک اٹھے مرے عارض مہک اٹھیں سانسیں پھر اور کیا ہے اگر یہ ترا خیال نہیں نہ جانے کتنے ...

مزید پڑھیے

دیپ جلے تو دیپ بجھانے آتے ہیں

دیپ جلے تو دیپ بجھانے آتے ہیں شہر کے سارے لوگ رلانے آتے ہیں دل کی کلیاں تیرے نام پہ کھلتی ہیں تارے بھی اب مانگ سجانے آتے ہیں تم پر خوشیوں کے سارے ہی موسم اتریں ہم کو سارے دکھ بہلانے آتے ہیں جانے کیا دیکھا تھا تیری آنکھوں میں جانے کیوں اب خواب سہانے آتے ہیں من مندر میں رکھ کر ...

مزید پڑھیے

عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں

عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں ارض و سما کا اس کو ہم نور جانتے ہیں ہرچند دو جہاں سے اب ہم گزر گئے ہیں تس پر بھی دل کے گھر کو ہم دور جانتے ہیں جس میں تری رضا ہو وہ ہی قبول کرنا اپنا تو ہم یہی کچھ مقدور جانتے ہیں سو رنگ جلوہ گر ہیں گرچہ بتان عالم ہم ایک تجھی کو اپنا منظور جانتے ...

مزید پڑھیے

دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گا

دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گا اپنی ہی آنکھوں سے اب خون بہا لیجئے گا پھر نہیں ہونے کی تقصیر تو ایسی ہرگز اب کسی طرح میری جان بچا لیجئے گا اس قدر سنگ دلی تم کو نہیں ہے لازم کسی مظلوم کی گاہے تو دعا لیجئے گا لخت دل خاک میں دیتا ہے کوئی بھی رہنے گر پڑے اشک تو آنکھوں سے اٹھا ...

مزید پڑھیے

چھٹا آدمی

یہ مرا شہر ہے خوبصورت حسیں چاندنی کا نگر دھوپ کی سرزمیں شہر کے روز و شب میری آنکھیں جس طرح پتلیاں اور سفیدی میں ان آنکھوں سے سب منظر رنگ و بو دیکھتا ہوں راستہ راستہ کو بہ کو دیکھتا ہوں میں کہ شب گرد شاعر چاند سے باتیں کرتے ہوئے چل پڑا تھا ایک بستی ملی ملگجے اور سیہ جھونپڑے چار ...

مزید پڑھیے

تماشہ

رات جگمگاتی ہے بھیڑ شور ہنگامے زرق برق پہناوے سرخ سیم گوں دھانی روشنی کے فوارے مرد عورتیں بچے آڑی ترچھی صف باندھے ایک خط نوریں کے نقطۂ عمودی کو سر اٹھائے تکتے ہیں لوکا جاگ اٹھتا ہے ایک لاٹ گرتی ہے مرد عورتیں بچے تالیاں بچاتے ہیں صرف ایک ہی عورت چیخ روک لیتی ہے صرف ایک ہی ...

مزید پڑھیے

پتھراؤ کی چومکھ برکھا میں

میں زخمی زخمی لہو لہو ہر جنگل ہر آبادی میں کانٹوں کے نکیلے رستوں پر پھولوں کی رو پہلی وادی میں ہر شہر میں ہر ویرانے میں کوئی تو خریدار آئے گا مقتل کی سنہری چوکھٹ تک بسمل کا طرف دار آئے گا اک آس لئے امید لیے دامن میں مہ و خورشید لیے پتھراؤ کی چومکھ برکھا میں خوابوں کو بچاتا پھرتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 719 سے 5858