ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے
ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہے فلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہے نہ دیکھا اپنے بسمل کا تماشا قریب آ کر وہ کتنا دوربیں ہے یہ اچھا ہے تو اچھا غیر کو بھی ستاؤ اور پوچھو کیوں غمیں ہے ہمیں صورت دکھائے کیا تمنا کہ عاشق جس کے ہیں پردہ نشیں ہے یہ مجھ سے شکوہ ہے اللہ رے شوخی کہ میرے غم سے ...