شاعری

ہوائے عشق میں شامل ہوس کی لو ہی رہی

ہوائے عشق میں شامل ہوس کی لو ہی رہی بڑھا بھی ربط تو بے ربط گفتگو ہی رہی نہ آئی ہاتھ میں تتلی گداز خوشبو کی گل بدن کی مہک میرے چار سو ہی رہی وہ دشت دشت سی آنکھیں چمن چمن چہرہ سراب خوف کی اک لہر روبرو ہی رہی طلوع افق پہ ہے اب تک وہی ستارۂ باد میں بھول جاؤں اسے دل میں آرزو ہی ...

مزید پڑھیے

وقت کا دامن پھسلتا جا رہا ہے

وقت کا دامن پھسلتا جا رہا ہے عمر کا پل پل نکلتا جا رہا ہے ہو گئی ہے زندگی ویران جیسی کس طرح سب کچھ بدلتا رہا ہے کیا پتہ یہ راہ نکلے گی کہاں پر یہ زمانہ جس پہ چلتا جا رہا ہے گھل رہا ہے سنکھیا کتنا ہوا میں ہر طرف موسم بدلتا جا رہا ہے سوچ میں چنگاریاں سی اٹھ رہی اب من میں اک ارماں ...

مزید پڑھیے

الجھنوں میں ہی الجھتی زندگانی رہ گئی

الجھنوں میں ہی الجھتی زندگانی رہ گئی بس وفاؤں کی بدولت شادمانی رہ گئی تم فلک پر چاند بن کر روشنی دیتے رہے میں مہکتی سی تمہاری رات رانی رہ گئی خواب سب بے نور ہیں بے رنگ گم سم رونقیں زندگی تم بن کہاں اب زعفرانی رہ گئی ڈھل رہی ہے شب اداسی درد کا عالم ہوا یہ سپرد خاک دنیا فانی فانی ...

مزید پڑھیے

زمانے کو سہی راہیں دکھاتی انگلیاں دیکھو

زمانے کو سہی راہیں دکھاتی انگلیاں دیکھو سبھی کی خامیاں کھل کر گناتی انگلیاں دیکھو اٹھاتی ہیں گراتی ہیں یہی دیوار اپنوں میں خوشی چھوکر ہنسی تو غم چھپاتی انگلیاں دیکھو ادھورے چتر میں پوری کہانی زندگانی کی لیے نو تولکا کب سے سجاتی انگلیاں دیکھو کہیں سمبندھ کوئی کھا نہ لیں ...

مزید پڑھیے

نظر کی کیا کہیں اب تو جگر بھی ہو گئے پتھر

نظر کی کیا کہیں اب تو جگر بھی ہو گئے پتھر کہاں بوئے وفا کھوئی کہ گھر بھی ہو گئے پتھر خدا تب بے بسی میں شب سحر رویا یقیناً ہے گلوں سے کھلکھلاتے جب شجر بھی ہو گئے پتھر بڑی امید لے کر میں چلی آئی سنو پیارے مگر تھی کیا خبر دیوار و در بھی ہو گئے پتھر ملمع وقت کا چڑھتا گیا کیوں اس قدر ...

مزید پڑھیے

شہر احساس میں زخموں کے خریدار بہت

شہر احساس میں زخموں کے خریدار بہت ہاتھ میں سنگ اٹھا شیشوں کے بازار بہت کوئی کھڑکی ہے سلامت نہ کوئی دروازہ میرے گھر کے سبھی کمرے ہیں ہوا دار بہت ہاتھ تھکتے نہیں رنگوں کے ہیولے بن کر اہل فن کو سر کاغذ خط پر کار بہت دشت میں بھی وہی آثار ہیں آبادی کے پھیلتا جاتا ہے اب سایۂ دیوار ...

مزید پڑھیے

زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے

زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہے چلتی پھرتی یہ زمانے کی ہوا ہوتی ہے سیر دنیا کی نہ کچھ یاد خدا ہوتی ہے عمر انہیں جھگڑوں میں تاراج فنا ہوتی ہے روح جب قالب خاکی سے جدا ہوتی ہے کس کو معلوم کہاں جاتی ہے کیا ہوتی ہے فکر دنیا سے سوا ہو جسے عقبیٰ کا خیال وہ طبیعت ہی زمانے سے جدا ہوتی ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا

کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا کچھ نہ کہنا بھی مرا حسن بیاں ہو جائے گا اپنے دیوانے کا تم جوش جنوں بڑھنے تو دو آستیں دامن گریباں دھجیاں ہو جائے گا عاشق جانباز ہیں ہم منہ نہ موڑیں گے کبھی تم کماں سے تیر چھوڑو امتحاں ہو جائے گا ٹوٹی پھوٹی قبر بھی کر دو برابر شوق سے یہ بھی ...

مزید پڑھیے

ذرا سی بات پہ اکثر اکیلا چھوڑ جاتی ہے

ذرا سی بات پہ اکثر اکیلا چھوڑ جاتی ہے ہنسی ہونٹوں پہ میرا زخم گہرا چھوڑ جاتی ہے اگر ہو فیصلہ قدرت کا تو مجبور ہوتی ہے وگرنہ کون ماں بچوں کو تنہا چھوڑ جاتی ہے کبھی وعدے کبھی یادیں کبھی آنسو کبھی آہیں تو جب جاتی ہے میرے پاس کیا کیا چھوڑ جاتی ہے میں اپنے گھر سے نکلا ہوں دعائیں ماں ...

مزید پڑھیے

بچھڑ جاؤں میں تجھ سے یا ذرا سا دور ہو جاؤں

بچھڑ جاؤں میں تجھ سے یا ذرا سا دور ہو جاؤں یہی تو چاہتا ہے تو کہ میں رنجور ہو جاؤں دعا ہے یہ رہوں غالب میں اپنے نفس پر یا رب چلوں میں راہ حق میں اور تجھے منظور ہو جاؤں بتا دے کیا کروں جس سے تری نظروں میں چڑھ جاؤں بنوں سونا تری خاطر یا کوہ نور ہو جاؤں مجھے راہ صداقت میں خدا ثابت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 712 سے 5858