شاعری

جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا

جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا میں نکلا ہوا ہوں گھر سے تب کا جس شہر میں بس رہے تھے ہم تم وہ شہر اجڑ چکا ہے کب کا تھی پہلے عجب جدائی ان کی اب خود سے فراق ہے غضب کا اے محو طلسم روز روشن درپیش ابھی سفر ہے شب کا ہر گل سے بھڑک رہے ہیں شعلے یہ عہد مگر ہے بو لہب کا تم کاہے کو اکڑ رہے ہو ...

مزید پڑھیے

ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد

ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد لوگوں نے کیا چاند کے صحراؤں کو آباد ہر سمت فلک بوس پہاڑوں کی قطاریں خسروؔ ہے نہ شیریںؔ ہے نہ تیشہ ہے نہ فرہاد برسوں سے یہی خواب ہیں نیندوں کی سجاوٹ گلشن ہے مگر گل ہے نہ بلبل ہے نہ صیاد ہوں طائر بے بام چراغ سر صحرا امید کرم ہے نہ مجھے شکوۂ ...

مزید پڑھیے

بنا جانے کسی کے ہو گئے ہم

بنا جانے کسی کے ہو گئے ہم غبار کارواں میں کھو گئے ہم رگوں میں برف سی جمنے لگی ہے سنبھالو اپنی یادوں کو گئے ہم تمہاری مسکراہٹ رچ گئی ہے ہر اس غنچے میں جس پر رو گئے ہم کسے معلوم کیا محفل پہ گزری فسانہ کہتے کہتے سو گئے ہم تری چاہت کے سناٹوں سے ڈر کر ہجوم زندگی میں کھو گئے ہم نہ ...

مزید پڑھیے

حاصل انتظار کچھ بھی نہیں

حاصل انتظار کچھ بھی نہیں یعنی انجام کار کچھ بھی نہیں حسرت وصل کے مقابل میں کلفت انتظار کچھ بھی نہیں دشت میں کچھ نہیں سراب تو ہے باغ میں گل نہ خار کچھ بھی نہیں کس سے اپنی شناخت لیتے ہو آئنہ جز غبار کچھ بھی نہیں دل میں جھانکو مرے اگر تو کھلے دامن تار تار کچھ بھی نہیں کون ہم سے ...

مزید پڑھیے

بے نشہ بہک رہا ہوں کب سے

بے نشہ بہک رہا ہوں کب سے دوزخ ہوں دہک رہا ہوں کب سے پتھر ہوئے کان موت کے بھی سولی پہ لٹک رہا ہوں کب سے جھڑتی نہیں گرد آگہی کی دامن کو جھٹک رہا ہوں کب سے لاہور کے کھنڈروں میں یا رب بلبل سا چہک رہا ہوں کب سے روشن نہ ہوئیں غزل کی شمعیں شعلہ سا بھڑک رہا ہوں کب سے تاریک ہیں راستے وفا ...

مزید پڑھیے

آؤ کہ ابھی چھاؤں ستاروں کی گھنی ہے

آؤ کہ ابھی چھاؤں ستاروں کی گھنی ہے پھر شام تلک دشت غریب الوطنی ہے کچھ بھی ہو مگر حسن کی فطرت میں ابھی تک پابندیٔ رسم و رہ خاطر شکنی ہے مت پوچھ کہ کیا رنگ ہے ضبط غم دل میں ہر اشک جو پیتا ہوں وہ ہیرے کی کنی ہے شاعر کے تخیل سے چراغوں کی لوؤں تک ہر چیز تری بزم میں تصویر بنی ہے تم جس ...

مزید پڑھیے

جانے کیا بات ہے مانوس بہت لگتا ہے

جانے کیا بات ہے مانوس بہت لگتا ہے یہ جو اک غیر سا اس بزم میں آ بیٹھا ہے عمر بھر تو نے زمانے کا کہا مانا ہے دل کی آواز بھی سن دیکھ تو کیا کہتا ہے مل بھی جائے جو کوئی ناؤ تو اب کیا حاصل اب تو دریا مرے دروازے پہ آ پہنچا ہے اس نے دل جان کے چھیڑا اسے معلوم نہ تھا میرے پہلو میں دہکتا ...

مزید پڑھیے

وہ پاس آئے آس بنے اور پلٹ گئے

وہ پاس آئے آس بنے اور پلٹ گئے کتنے ہی پردے آنکھوں کے آگے سے ہٹ گئے ہر باغ میں بہار ہوئی خیمہ زن مگر دامن کے ساتھ ساتھ یہاں دل بھی پھٹ گئے گمراہیوں کا لپکا کچھ ایسا پڑا کہ ہم منزل قریب آئی تو رہبر سے کٹ گئے دل دے کے اس طرح سے طبیعت سنبھل گئی گویا تمام عمر کے جھگڑے نپٹ گئے برسوں ...

مزید پڑھیے

اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے

اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے صحراؤں میں سائے کی تمنا نہیں کرتے مجنوں پہ نہ کر رشک کہ جو اہل وفا ہیں مر جاتے ہیں معشوق کو رسوا نہیں کرتے ٹک دیکھ لیا آنکھوں ہی آنکھوں میں ہنسے بھی پر یوں تو علاج دل شیدا نہیں کرتے کیا ہو گیا اس شہر کے لوگوں کے دلوں کو خنجر بھی اتر جائے تو دھڑکا ...

مزید پڑھیے

کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس

کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس جاتے ہی ان کے کچھ نہ رہا زندگی کے پاس دو پل برس کے ابر نے دریا کا رخ کیا تپتی زمیں سے پہروں نکلتی رہی بھڑاس مٹی کی سوندھ جاتے ہوئے ساتھ لے اڑی ڈالی کا لوچ پات کی سبزی کلی کی باس اشکوں سے کس کو پیار ہے آہوں سے کس کو انس لیکن یہ دل کہ جس کو خوشی آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 709 سے 5858