کچھ حشر سے کم گرمئ بازار نہیں ہے
کچھ حشر سے کم گرمئ بازار نہیں ہے وہ جنس ہوں میں جس کا خریدار نہیں ہے اس رات کے گمبھیر اندھیرے میں ہے کیا کیا حاصل تجھے پر دیدۂ بے دار نہیں ہے ممکن ہو تو سینے میں اتر کر تو مرے دیکھ وہ لاش ہوں میں جس کا عزا دار نہیں ہے اک تیرے تغافل نے کمر توڑ کے رکھ دی ورنہ غم دنیا تو مجھے بار ...