جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا

جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا
میں نکلا ہوا ہوں گھر سے تب کا


جس شہر میں بس رہے تھے ہم تم
وہ شہر اجڑ چکا ہے کب کا


تھی پہلے عجب جدائی ان کی
اب خود سے فراق ہے غضب کا


اے محو طلسم روز روشن
درپیش ابھی سفر ہے شب کا


ہر گل سے بھڑک رہے ہیں شعلے
یہ عہد مگر ہے بو لہب کا


تم کاہے کو اکڑ رہے ہو تنہا
شہرتؔ یہ معاملہ ہے سب کا