شاعری

دل نے کس منزل بے نام میں چھوڑا تھا مجھے

دل نے کس منزل بے نام میں چھوڑا تھا مجھے رات بھر خود مرے سائے نے بھی ڈھونڈا تھا مجھے مجھ کو حسرت کہ حقیقت میں نہ دیکھا اس کو اس کو ناراضگی کیوں خواب میں دیکھا تھا مجھے اجنبی بن کے سر راہ ملا تھا جو ابھی یہ وہی شخص ہے جس نے کبھی چاہا تھا مجھے جب بھی تنہائی ملے آئینہ ہے یا میں ...

مزید پڑھیے

میں نے ہی نہ کچھ کھویا جو پایا نہ کسی کو

میں نے ہی نہ کچھ کھویا جو پایا نہ کسی کو اس نے بھی تو پورا نہ کیا میری کمی کو ہے موجزن اک قلزم خوں سینے میں اب تک درکار نہیں اور مری تشنہ لبی کو ہنستے انہیں دیکھا تو بہت پھوٹ کے روئے جو لوگ ترستے رہے اک عمر ہنسی کو کچھ ایسی طبیعت ملی ہم اہل چمن کو برداشت کیا ہے کبھی شبنم نہ کلی ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ پہ گراں ہے تو مرے گا کیسے

زندگی تجھ پہ گراں ہے تو مرے گا کیسے جس کو رونا نہیں آتا وہ ہنسے گا کیسے میری آنکھوں میں کوئی اشک نہ ہونٹوں پہ غزل داستان غم دل کوئی سنے گا کیسے ہاتھ شل ہو گئے دل درد سے محروم ہوا پردہ چھوڑا ہے جو اس نے وہ ہٹے گا کیسے کیسا نادان ہے تو جب مرا دل توڑا تھا یہ نہ سوچا کہ تجھے یاد کرے ...

مزید پڑھیے

عیش دنیا کا جب شمار نہ تھا

عیش دنیا کا جب شمار نہ تھا تب ہمیں دل پہ اختیار نہ تھا ہم بھی کس قافلے میں شامل تھے جس کے پیچھے کوئی غبار نہ تھا عمر بھر عشق کا فریب رہا کب ہمیں اپنا انتظار نہ تھا رات دن ایک ہی رہا عالم کون سا لمحہ سوگوار نہ تھا وہ بھی معصوم تھا اگر شہرتؔ اپنا دامن بھی داغ دار نہ تھا

مزید پڑھیے

جانے کس کس کی توجہ کا تماشا دیکھا

جانے کس کس کی توجہ کا تماشا دیکھا توڑ کر آئنہ جب اپنا ہی چہرا دیکھا آ لگے گور کنارے تو ملا مژدۂ وصل رات ڈوبی تو ابھرتا ہوا تارا دیکھا ایک آنسو میں ہوئے غرق دو عالم کے ستم یہ سمندر تو ترے غم سے بھی گہرا دیکھا یاد آتا نہیں کچھ بھی کہ یہاں دنیا میں کون سی چیز نہیں دیکھی مگر کیا ...

مزید پڑھیے

دل سخت نڈھال ہو گیا ہے

دل سخت نڈھال ہو گیا ہے سانس آنا محال ہو گیا ہے تو تیرا وصال تیری فرقت سب خواب و خیال ہو گیا ہے وہ شوق کہ تھا متاع ہستی اب جی کا وبال ہو گیا ہے کیا ربط ہے میرا روز و شب سے ہر لمحہ سوال ہو گیا ہے جو درد بھلا دیا تھا تو نے وہ درد بحال ہو گیا ہے اب چارہ گری سے فائدہ کیا آغاز مآل ہو ...

مزید پڑھیے

اک عمر فسانے غم جاناں کے گڑھے ہیں

اک عمر فسانے غم جاناں کے گڑھے ہیں تارے افق شعر پہ کیا کیا نہ جڑے ہیں صحرا میں ہے جل تھل تو سمندر میں بگولے ہم وضع کے پابند ہیں چپ چاپ پڑے ہیں آئے کوئی جائے ہمیں کیا کام کہ ہم لوگ کھمبے ہیں کہ سڑکوں کے کنارے پہ گڑے ہیں خود پر جو پڑی ہے تو دھڑکتا نہیں دل بھی غیروں کے لئے کعبے میں جا ...

مزید پڑھیے

دل طلب گار تماشا کیوں تھا

دل طلب گار تماشا کیوں تھا یعنی حسرت کش دنیا کیوں تھا دن بہر حال گزر ہی جاتے دل کا احسان اٹھایا کیوں تھا سخت بیگانہ تھا لیکن یارب اتنا مانوس وہ چہرا کیوں تھا جز غزل خاک تھا دامن میں مرے اس نے پھر پیار سے دیکھا کیوں تھا وہ اگر میری رسائی میں نہ تھا آئینے میں کوئی ویسا کیوں ...

مزید پڑھیے

آ دل میں تجھے کہیں چھپا لوں

آ دل میں تجھے کہیں چھپا لوں لوگوں کی نگاہ سے بچا لوں کیوں تجھ پہ گمان بے وفائی کیوں اپنے ہی دل کی بد دعا لوں تجھ سا کوئی دوسرا نہیں ہے چاہے تو تری قسم اٹھا لوں دیوار امید ڈھے رہی ہے تصویر تری کہاں لگا لوں آئینے کی دھند صاف کر کے کیوں خود کو نہ حال دل سنا لوں کٹتے ہی نہیں پہاڑ ...

مزید پڑھیے

ہم پی گئے سب ہلے نہ اب تک

ہم پی گئے سب ہلے نہ اب تک جی ہار گئے نجوم شب تک ہر چند گھٹائیں چھٹ گئی ہیں پر دل پہ غبار سا ہے اب تک خوش ہو نہ زمانہ میرے غم پر آئے گا یہ دور جام سب تک اشکوں نے فسانہ کر دیا ہے وہ لفظ کہ آ سکا نہ لب تک ہر غم کو اڑا دیا ہنسی میں تم پیش نظر رہے ہو جب تک مے خانہ میں سر چھپائیں آؤ وا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 708 سے 5858