دل نے کس منزل بے نام میں چھوڑا تھا مجھے
دل نے کس منزل بے نام میں چھوڑا تھا مجھے رات بھر خود مرے سائے نے بھی ڈھونڈا تھا مجھے مجھ کو حسرت کہ حقیقت میں نہ دیکھا اس کو اس کو ناراضگی کیوں خواب میں دیکھا تھا مجھے اجنبی بن کے سر راہ ملا تھا جو ابھی یہ وہی شخص ہے جس نے کبھی چاہا تھا مجھے جب بھی تنہائی ملے آئینہ ہے یا میں ...