شاعری

سفیدی خیالوں میں آنے لگی ہے

سفیدی خیالوں میں آنے لگی ہے مگر ایک خواہش ابھی تک ہری ہے چلی ہے یہ والد کے نقش قدم پر مری شاعری میرے غم پر گئی ہے جسے زندگی زندگی کہہ رہے ہو تمہیں جانب قبر کیوں لے چلی ہے میں غم کا تخلص خوشی رکھ رہا ہوں مری زیست آخر میں یوں ہنس پڑی ہے

مزید پڑھیے

نقاب پوش

اے میرے بد نصیب باپ چیخ چیخ کر رونا کچھ بھی ثابت نہیں کرتا وقت کچھ بھی نہیں ہے اور حیرت زدہ دروازے یہ تو روز کا معاملہ ہے انجن کے کوئلے کی طرح جل نہ اٹھنا ورنہ راکھ کی طرح انڈیل دئے جاؤ گے اے میرے بد نصیب باپ زندگی کی چھوٹی بندرگاہوں پر بڑے جہاز لنگر انداز نہیں ہوتے کچھ عجیب ...

مزید پڑھیے

تابوت نگر

مجھے پتہ بھی نہ چلا اور میں تابوت نگر آ گیا یہ اتنا مبہم بھی نہ تھا تابوت نگر جس کی گلیوں میں انسان اپنی پرچھائیوں سے کٹ جاتے ہیں تابوت نگر کے چار چوب دروازے اور دریچے انسانوں کے منتظر ہیں جو اپنے گھروں میں دفن ہیں جب یخ بستہ ہوائیں ٹکراتی ہیں ان گھروں سے تو یہ لوگ اپنی بدبو دار ...

مزید پڑھیے

حور ہو یا کوئی پری ہو تم

حور ہو یا کوئی پری ہو تم کیسے دل میں اتر گئی ہو تم تیری آنکھوں میں نیلے دریا ہیں میرے خوابوں کی جل پری ہو تم زندگی بھی تو عارضی ٹھہری کیسے کہہ دوں کہ زندگی ہو تم تم مری نظم ہو تخیل ہو میری اردو ہو شاعری ہو تم دیکھ جگنو بھی تم سے جلتے ہیں چاند نگری کی چاندنی ہو تم آئنہ خانہ بن ...

مزید پڑھیے

الگنی

الگنی جو دھوپ میں لٹک رہی تھی ٹوٹ کے اسی کو پھر سے باندھ کے سبز رنگ کا ریشمی لباس اس پہ ٹانگ کے وہ خوش ہوئی ہے اس قدر کہ جیسے اس نے پا لیے ہوں گر سبھی حیات کے مگر اسے نہیں پتہ یہ الگنی جو ٹوٹ کے لٹک رہی تھی دھوپ میں یہ اب بہت اداس ہے

مزید پڑھیے

مصرعے

مصرعے دم پہ رکھ دیتی ہوں چاول قاب میں بھیگ چکے ہیں روٹی بیلن کے نیچے ہے پیاز کا تڑکا دال پہ ڈال کے چاول پکنے رکھے ہیں کیٹل میں ہے چائے چڑھائی جب تک چائے میں بھانپ بنے میں مصرعے دم پہ رکھ دیتی ہوں اور اسی اثنا میں برتن دسترخوان پہ چن دیتی ہوں دسترخوان پہ کپ پلیٹوں اور چمچوں کے شور ...

مزید پڑھیے

لکڑہاری

سفینہ ساز تھا وہ لکڑیاں میں کاٹ لاتی تھی سو بس اک دن کہا اس نے لکڑہاری انوکھے اک سفینے کی ہی اب تخلیق باقی ہے مجھے درکار ہے جس کے لئے نادیدہ جنگل کی کھنکتی سرمئی لکڑی اگر تو ڈھونڈ لائے تو بنا سکتا ہوں میں نادر سفینہ اک میں اس کی بات سنتے ہی یکایک چونک اٹھی پھر نظر بھر کر اسے دیکھا ...

مزید پڑھیے

ٹیوشن

چنتی ہوں میں لمحہ لمحہ ساحل سے تابندہ موتی اور باغوں سے پھول موتی اور پھولوں کی جب پازیب بنا کر پہنوں گی چڑھتا سورج وجد میں آ کے میری ایڑی چومے گا اور سمندر شام کنارے پیاس کا دامن کھولے گا

مزید پڑھیے

اس نے مجھ کو یاد کیا ہے

اس نے مجھ کو یاد کیا ہے لیکن میرے بعد کیا ہے دل کی بات بتا کر ہم نے اک رشتہ برباد کیا ہے عشق کیا تھا دونوں نے پر کس نے کس کو شاد کیا ہے پنچھی نے مرنے کی خاطر خود کو اب صیاد کیا ہے قید زیست سنا کر بولے جا تجھ کو آزاد کیا ہے آج غزل گائیں گے بادل دھرتی نے ارشاد کیا ہے

مزید پڑھیے

شعر تو بعد میں کہا میں نے

شعر تو بعد میں کہا میں نے پہلے سوچا تھا قافیہ میں نے یہ نہیں کہ جلن ہوئی مجھ کو بس تری خوشیوں کو سہا میں نے عمر بھر ٹھوکریں جدھر کھائیں پھر وہی راستہ چنا میں نے گیٹ سے رشتے لوٹ جاتے ہیں پال کے رکھی ہے انا میں نے

مزید پڑھیے
صفحہ 672 سے 5858