ایماں کی نمائش ہے سجدے ہیں کہ افسانے
ایماں کی نمائش ہے سجدے ہیں کہ افسانے ہیں چاند جبینوں پر اور ذہن میں بت خانے کچھ عقل کے متوالے کچھ عشق کے دیوانے پرواز کہاں تک ہے کس کی یہ خدا جانے کم ظرف کی نیت کیا پگھلا ہوا لوہا ہے بھر بھر کے چھلکتے ہیں اکثر یہی پیمانے اب رنگ کے نسلوں کے بت ٹوٹ چکے ساقی اب کیوں دیئے جاتے ہیں ...