آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں
آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں ہم کل کی آستینیں اب تک سکھا رہے ہیں احساں جتا جتا کر نشتر لگا رہے ہیں میری کہانیاں سب مجھ کو سنا رہے ہیں آنسو غم و خوشی کے جلوے دکھا رہے ہیں کچھ جگمگا رہے ہیں کچھ جھلملا رہے ہیں ساقی کے روٹھنے پر رندوں میں برہمی ہے ساغر سے آج ساغر ٹکرائے جا ...