شاعری

تجھے پا کے تجھ سے جدا ہو گئے ہم

تجھے پا کے تجھ سے جدا ہو گئے ہم کہاں کھو دیا تو نے کیا ہو گئے ہم محبت میں اک سانحا ہو گئے ہم ابھی تھے ابھی جانے کیا ہو گئے ہم محبت تو خود حسن ہے حسن کیسا یہ کس وہم میں مبتلا ہو گئے ہم یہ کیا کر دیا انقلاب محبت ذرا آئینہ لا یہ کیا ہو گئے ہم حقیقت میں بندہ بھی بننا نہ آیا سمجھتے ہیں ...

مزید پڑھیے

ملا دلا سہی اک خشک ہار باقی ہے

ملا دلا سہی اک خشک ہار باقی ہے ابھی بہار شکست بہار باقی ہے نظر سنوار چکی کتنے آئنہ خانے اسی طرح ہوس دید یار باقی ہے بچھونا کانٹوں کا ہے پھر بھی آئی جاتی ہے نیند ابھی تصور زانوئے یار باقی ہے شکست عہد کے کیوں ہوں نہ سلسلے قائم اک آسرا پس ہر اعتبار باقی ہے قفس میں فرصت فکر چمن ...

مزید پڑھیے

اور کس شے سے داغ دل دھوئیں

اور کس شے سے داغ دل دھوئیں کیا کریں گر نہ اس قدر روئیں دل تو پتھر بنا دیا تو نے آرزو کس زمین میں بوئیں ہم کسی بات سے نہیں ڈرتے ہم نے پایا ہی کیا ہے جو کھوئیں آج فرصت ملی ہیں مدت بعد آؤ! تنگئ وقت پر روئیں ہم یہی خواب دیکھتے ہیں اسدؔ ان کے شانے پہ رکھ کے سر سوئیں

مزید پڑھیے

اس نے پوچھا تھا پہلے حال مرا

اس نے پوچھا تھا پہلے حال مرا پھر کیا دیر تک ملال مرا میں وفا کو ہنر سمجھتا تھا مجھ پہ بھاری پڑا کمال مرا اس میں تبدیلیاں کرنی حسیں آئینے عکس تو نکال مرا میں ترا آخری اثاثہ ہوں اے غم یار رکھ خیال مرا

مزید پڑھیے

رگ جاں میں سما جاتی ہو جاناں

رگ جاں میں سما جاتی ہو جاناں تم اتنا یاد کیوں آتی ہو جاناں تمہارے سائے ہے پہلو میں اب تک کہ جا کر بھی کہاں جاتی ہو جاناں مری نیندیں اڑا رکھی ہیں تم نے یہ کیسے خواب دکھلاتی ہو جاناں کسی دن دیکھنا مر جاؤں گا میں مری قسمیں بہت کھاتی ہو جاناں وہ سنتا ہوں میں اپنی دھڑکنوں سے تم ...

مزید پڑھیے

درد کے دائمی رشتوں سے لپٹ جاتے ہیں

درد کے دائمی رشتوں سے لپٹ جاتے ہیں عکس روتے ہیں تو شیشوں سے لپٹ جاتے ہیں ہائے وہ لوگ جنہیں ہم نے بھلا رکھا ہے یاد آتے ہیں تو سانسوں سے لپٹ جاتے ہیں کس کے پیروں کے نشاں ہیں کہ مسافر بھی اب منزلیں بھول کے رستوں سے لپٹ جاتے ہیں جب وہ روتا ہے تو یک لخت مری پیاس کے ہونٹ اس کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

آج ہے کچھ سبب آج کی شب نہ جا

آج ہے کچھ سبب آج کی شب نہ جا جان ہے زیر لب آج کی شب نہ جا کیا پتا پھر ترے وصل کی ساعتیں ہوں کہاں کیسے کب آج کی شب نہ جا چاند کیا پھول کیا شمع کیا رنگ کیا ہیں پریشان سب آج کی شب نہ جا وقت کو کیسے ترتیب دیتے ہیں لوگ آ سکھا دے یہ اب آج کی شب نہ جا وہ سحر بھی تجھی سے سحر تھی اسدؔ شب بھی ...

مزید پڑھیے

ہماری مٹی سے کیا بنے گا

ہماری مٹی سے کیا بنے گا بہت بنا تو خدا بنے گا یہ ہم جو بت ہو کے دیکھتے ہیں یہی تمہاری ادا بنے گا نہیں کوئی زاویہ ہمارا سو یہ بھی اک زاویہ بنے گا

مزید پڑھیے

اس طرح سے ترجمانی کر گیا

اس طرح سے ترجمانی کر گیا میرے اشکوں کو وہ پانی کر گیا اس نے چہرے سے ہٹا ڈالا نقاب اور میری غزلیں پرانی کر گیا رکھ گیا وہ اپنے کپڑے سوکھنے دھوپ بھی کتنی سہانی کر گیا بھول جانے کی قسم دینا تیرا یاد آنے کی نشانی کر گیا دو گھڑی کو پاس آیا تھا کوئی دل پہ برسوں حکمرانی کر گیا جس پہ ...

مزید پڑھیے

وہ جو صورت تھی ساتھ ساتھ کبھی سرخ مہکے گلاب کی صورت

وہ جو صورت تھی ساتھ ساتھ کبھی سرخ مہکے گلاب کی صورت اس کی یادیں اترتی رہتی ہیں ذہن و دل پہ عذاب کی صورت یہ رویہ سہی نہیں ہوتا یوں ہمیں کشمکش میں مت ڈالو یا ہمیں سچ کی طرح اپنا لو یا بھلا بھی دو خواب کی صورت اس نے ان دیکھا ان سنا کر کے بے تعلق کیا ہے تو اب ہم اس کی تصویر سے نکالیں گے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 635 سے 5858