نئی غزل کا نئی فکر و آگہی کا ورق
نئی غزل کا نئی فکر و آگہی کا ورق زمانہ کھول رہا ہے سخنوری کا ورق محبتوں کے حسیں باب سے ذرا آگے کتاب زیست میں ملتا ہے گمرہی کا ورق سنہری ساعتیں منسوب ہیں ترے غم سے پلٹ کے دیکھ ذرا میری زندگی کا ورق کتاب وقت کی آندھی میں کھل گئی شاید ہوا میں اڑ گیا دیرینہ دوستی کا ورق تلاوتوں ...