یک دست برپا ہم نے دونو جہاں میں دیکھا
یک دست برپا ہم نے دونو جہاں میں دیکھا منصور کو سراسر دار الاماں میں دیکھا آتش جگر میں گاہے گہہ شعلہ جاں میں دیکھا اللہ ہم نے کیا کیا عشق بتاں میں دیکھا کس شعلہ رو کی الفت جوں برق دل میں چمکی آتش کا یک زباں نہ کام و دہاں میں دیکھا ہم کو کفن اسی کا لازم ہے ماہرو یاں الفت کا پرتو ...