شاعری

جب سے تو بے نقاب ہے پیارے

جب سے تو بے نقاب ہے پیارے ہر نظر کامیاب ہے پیارے تجھ کو دیکھوں تو کس طرح دیکھوں تو کہ اک آفتاب ہے پیارے میری آنکھوں میں دیکھ کیف جمال کیسی اچھی شراب ہے پیارے جس کو تو نے بنا لیا اپنا وہی دل انتخاب ہے پیارے تیری فرقت میں تیری دوری میں حالت دل خراب ہے پیارے تیرا ملنا تو کوئی ...

مزید پڑھیے

روز ازل ہو یا ابد دونوں ہیں ہمکنار عشق

روز ازل ہو یا ابد دونوں ہیں ہمکنار عشق عشق ہے راز دار حسن حسن ہے رازدار عشق خوشبوئے حسن و عشق سے مہکے ہوئے ہیں بام و در سارا جہاں بہار حسن سارا جہاں بہار عشق ہوتا ہے کون کامراں معرکۂ حیات میں ان کو ہے اعتماد حسن ہم کو ہے اعتبار عشق اٹھو حریم ناز سے سوتے رہو گے کب تلک پھیلی ہوئی ...

مزید پڑھیے

مقدر آزمانا چاہتا ہوں

مقدر آزمانا چاہتا ہوں تمہارا آستانا چاہتا ہوں شب فرقت مسلسل آنسوؤں سے لگی دل کی بجھانا چاہتا ہوں خدا جانے وہ کس کا آستاں ہے جہاں میں سر جھکانا چاہتا ہوں مجھے بخشا ہے جس نے غم اسی کو شریک غم بنانا چاہتا ہوں تری مخمور آنکھوں کے تصدق یہیں اب ڈوب جانا چاہتا ہوں جہاں وہ نقش پا مل ...

مزید پڑھیے

ملتفت جب سے نگاہ ناز ہے

ملتفت جب سے نگاہ ناز ہے اور ہی کچھ عشق کا انداز ہے گنگنایا نغمۂ دل حسن نے سارا عالم گوش بر آواز ہے پھیر کر منہ مسکرا کر دیکھنا یہ ستانے کا نیا انداز ہے مجھ کو مضطر دل کو بسمل کر گئی ہائے کیا ظالم نگاہ ناز ہے بحر عصیاں میں سراپا غرق ہوں ہاں مگر تیرے کرم پر ناز ہے دردؔ سے کیا ...

مزید پڑھیے

نگاہ حسن طلب احترام کس کا تھا

نگاہ حسن طلب احترام کس کا تھا کیا جو نظروں سے تو نے سلام کس کا تھا ملا جو روز ازل وہ پیام کس کا تھا ندا جو کان میں آئی وہ نام کس کا تھا جنون شوق سلامت کہ یہ بھی ہوش نہیں میں جس مقام پہ تھا وہ مقام کس کا تھا بکھر پڑی تھی ہر اک سو بہار لالہ و گل خدا ہی جانے لبوں پر کلام کس کا تھا بنا ...

مزید پڑھیے

روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا

روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا خورشید محبت ہے پیمانہ محبت کا اے زاہد ناداں وہ کیا دیر و حرم جانے دل جس کا ازل سے ہو دیوانہ محبت کا رنگین شعاعوں سے معمور ہے ہر ذرہ آباد تجلی ہے ویرانہ محبت کا قطرہ بھی مجھے اکثر دریا نظر آتا ہے جس دن سے پیا میں نے پیمانہ محبت کا جاری رہے مے ...

مزید پڑھیے

وہ ناز محبت دکھانا کسی کا

وہ ناز محبت دکھانا کسی کا منانا مرا روٹھ جانا کسی کا ستم پر ستم روز ڈھانا کسی کا مجھے سو طرح آزمانا کسی کا وہ رسوا ہوا کوچۂ عاشقی میں جو کہنا کسی نے نہ مانا کسی کا جو ہم پر بھی گرتی وہ برق تجلی تو ہم بھی سناتے فسانہ کسی کا عجب لطف تنہائی میں پا رہا ہوں تصور میں ہے آنا جانا کسی ...

مزید پڑھیے

ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں

ناشاد تھا ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں دل عشق میں برباد ہے معلوم نہیں کیوں دیکھا تھا کبھی خواب حسیں میں نے بھی اے دوست اتنا تو مجھے یاد ہے معلوم نہیں کیوں باقی ہے ابھی طول شب ہجر کا عالم دل شام سے ناشاد ہے معلوم نہیں کیوں برباد ہوا جس کے تغافل سے مرا دل دل میں وہی آباد ہے معلوم ...

مزید پڑھیے

زندگی کتنی خوش گوار ہے آج

زندگی کتنی خوش گوار ہے آج ہر طرف موسم بہار ہے آج نگہ شوق کو قرار ہے آج جلوۂ حسن آشکار ہے آج دل کا ہر زخم آج روشن ہے کتنا پر سوز انتظار ہے آج ان کی تصویر بات کرتی ہے ہجر کی شب بھی سازگار ہے آج کیفیت دل کی پوچھتے ہو کیا محو دیدار حسن یار ہے آج تذکرہ کل کا کیا مقدر ہے ان کی باتوں پہ ...

مزید پڑھیے

ایماں نواز گردش پیمانہ ہو گئی

ایماں نواز گردش پیمانہ ہو گئی ہم سے بھی ایک لغزش مستانہ ہو گئی کوئی تو بات شمع کے جلنے میں تھی ضرور جس پر نثار ہستیٔ پروانہ ہو گئی صد شکر آج ہو تو گئی ان سے گفتگو یہ اور بات ہے کہ حریفانہ ہو گئی اللہ رے اشک بارئ شمع شب فراق جو صبح ہوتے ہوتے اک افسانہ ہو گئی حیرتؔ کے غم کدے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5749 سے 5858