ہے اسی شہر کی گلیوں میں قیام اپنا بھی
ہے اسی شہر کی گلیوں میں قیام اپنا بھی ایک تختی پہ لکھا رہتا ہے نام اپنا بھی بھیگتی رہتی ہے دہلیز کسی بارش میں دیکھتے دیکھتے بھر جاتا ہے جام اپنا بھی ایک تو شام کی بے مہر ہوا چلتی ہے ایک رہتا ہے ترے کو میں خرام اپنا بھی کوئی آہٹ ترے کوچے میں مہک اٹھتی ہے جاگ اٹھتا ہے تماشا کسی ...