شاعری

آنچل میں نظر آتی ہیں کچھ اور سی آنکھیں

آنچل میں نظر آتی ہیں کچھ اور سی آنکھیں چھا جاتی ہیں احساس پہ بلور سی آنکھیں رہتی ہے شب و روز میں بارش سی تری یاد خوابوں میں اتر جاتی ہیں گھنگھور سی آنکھیں پیمانے سے پیمانے تلک بادۂ لعلیں آغاز سے انجام تلک دور سی آنکھیں لے کر کہاں رہتی رہی موتی سی وہ صورت لے کر کہاں پھرتا رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5572 سے 5858