دل اب اس شہر میں جانے کو مچلتا بھی نہیں (ردیف .. ا)
دل اب اس شہر میں جانے کو مچلتا بھی نہیں کیا ضروری ہے ضرورت سے الگ ہو جانا عین ممکن ہے سمجھ تم کو نہ آؤں اس سال تم یہی کرنا کہ عجلت سے الگ ہو جانا یہ کہیں چھین نہ لے صبر کی دولت تم سے دل دھواں کرتی قیامت سے الگ ہو جانا وہ تمہیں بھول کے پاگل بھی تو ہو سکتا ہے دیکھ کر وقت سہولت سے الگ ...