خوش نہیں آئے بیاباں مری ویرانی کو
خوش نہیں آئے بیاباں مری ویرانی کو گھر بڑا چاہیئے اس بے سر و سامانی کو ڈھال دوں چشمۂ پر حرف کو آئینے میں اپنی آواز میں رکھ دوں تری حیرانی کو جادۂ نور کو ٹھوکر پہ سجاتا ہوا میں دیکھتا رہتا ہوں رنگوں کی پر افشانی کو سر صحرا مری آنکھوں کا تلاطم جاگا موجۂ ریگ نے سرشار کیا پانی ...